جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے مزید 113 کیس رپورٹ
جنوبی کوریا میں ہفتے کو کرونا وائرس کے 113 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ کوریا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کا کہنا ہے کہ مارج کے بعد ایک دن میں ہونے والا یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔
نئے کیسز کے اضافے کے ساتھ ہی ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 14 ہزار 92 ہوگئی ہے۔
نئے کیسز میں سے 86 کیسز بیرون ملک سے منتقل ہوئے جب کہ 27 کیسز مقامی طور پر ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوئے۔
جاپان میں آن لائن جادوگر
پاکستانی بزرگ جنہوں نے 103 سال کی عمر میں کرونا کو شکست دی
پاکستان کے علاقے چترال سے تعلق رکھنے والے 103 سالہ بزرگ کرونا وائرس کو شکست دے کر وائرس سے صحت یاب ہونے والے معمر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق چترال کے نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والے 103 سالہ عزیز عبدالعلیم میں رواں ماہ کے آغاز میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، لیکن اُنہیں گزشتہ ہفتے صحت یاب ہونے پر اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔
ڈاکٹرز اور عزیز کے عزیز و اقارب صحتِ عامہ کی سہولیات کے فقدان کے باوجود اُن کی صحت یابی پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
عزیز کے بیٹے سہیل احمد نے 'رائٹرز' کو ٹیلی فون پر بتایا کہ "والد کی زیادہ عمر کے باعث اُنہیں بہت تشویش تھی، لیکن والد صاحب کو کوئی فکر نہیں تھی اور وہ پرعزم تھے۔"
سہیل کے بقول وائرس کی تشخیص پر اُن کے والد نے کہا کہ اُنہوں نے زندگی میں بہت سی مشکلات جھیلی ہیں، لہذٰا اس وائرس سے وہ بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔
عزیز 1970 کی دہائی تک لکڑی کے کام سے وابستہ تھے۔ سہیل کے بقول اُن کی والد کی تین بیویاں انتقال کر چکی ہیں جن میں سے اُن کے نو بیٹے اور بیٹیاں تھیں جب کہ اُنہوں نے چوتھی بیوی کو چھوڑ دیا جب کہ اب وہ اپنی پانچویں بیوی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔
کرونا وائرس: کرفیو کے باعث کینیا میں حاملہ خواتین مشکلات سے دوچار
افریقی ملک کینیا میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگائے گئے کرفیو کے باعث حاملہ خواتین کی زندگی کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں شام سے صبح سویرے تک لگائے گئے کرفیو کے باعث ذرائع آمدورفت بھی معطل ہیں۔ ایسے میں حاملہ خواتین کو اسپتال تک پہنچنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسپتالوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث بہت سی خواتین دائی کے ذریعے بچوں کو جنم دے رہی ہیں جس سے دورانِ زچگی اموات کی شرح میں اضافے کے علاوہ صحت کے دیگر مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔
ویرونیکا نامی خاتون نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ' پریس کو اپنی آب بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ جب اُنہیں درد محسوس ہوا تو اسپتال جانے کے ذرائع نہ ہونے کے باعث اُنہوں نے مقامی دائی کے ذریعے بچے کو جنم دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس عمل کے دوران شدید تکلیف سے گزریں اور ساتھ ہی اُنہیں بچے کی صحت سے متعلق بھی خدشات کا سامنا کرنا پڑا۔
کینیا کا شمار بھی دنیا کے اُن ملکوں میں ہوتا ہے جہاں صحتِ عامہ کی ناکافی سہولیات کے باعث دورانِ زچگی اموات معمول ہیں۔
لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ کے بعد سے لے کر اب تک دورانِ زچگی اموات کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
نیروبی کے ایک سرکاری اسپتال کی ڈاکٹر جمیما کاریوکی نے بتایا کہ جب مارچ میں کرفیو کا آغاز ہوا تو اسپتال خالی ہو گئے۔ اُن کے بقول ہمیں اطلاعات ملتی رہیں کہ بہت سی خواتین روایتی طریقوں سے بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔