دنیا بھر میں ایک ہی روز میں ریکارڈ دو لاکھ 84 ہزار سے زائد کیس
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں جمعے کو کرونا وبا کے ریکارڈ دو لاکھ 84 ہزار 196 کیس رپورٹ ہوئے۔
ادارے کے مطابق یہ تعداد 18 جولائی کو رپورٹ ہونے والے ریکارڈ دو لاکھ 59 ہزار 848 کیسز سے بھی زیادہ ہے۔
تعداد کے لحاظ سے جمعے کو امریکہ میں لگ بھگ مزید 70 ہزار کیس رپورٹ ہوئے جب وائرس سے مسلسل چوتھے روز ایک ہزار کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئیں۔
دوسرے نمبر پر برازیل ہے جہاں جمعے کو 67 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے بھارت میں مزید 49 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہونے کے بعد مجموعی تعداد 13 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ 87 فی صد افراد صحت یاب
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے 87 فی صد افراد صحت یاب ہو گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں وائرس سے 1226 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی جس کے بعد مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 71 ہزار 264 ہو گئی۔
پاکستان میں وبا سے متاثرہ 2 لاکھ 37 ہزار 434 افراد کے صحت یاب ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے یوں وبا سے متاثر ہونے والے 87 فی صد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 29ہزار 857 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔
پاکستان میں وبا سے ہلاکتوں کی شرح میں بھی کمی آئی ہے۔
حکام نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 35 افراد کی اموات کی تصدیق ہے جس کے بعد وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 5822 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں وائرس سے متاثرہ دو فی صد افراد کی موت ہوئی ہے۔
بھارت میں وبا کا زور اور ناکافی طبی سہولتیں
بھارت میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ دو کروڑ آبادی والا دہلی شہر کئی دوسرے بڑے شہروں کی طرح مشکلات کا شکار ہے۔ ماہرین صحت کے لیے مختص بجٹ اور طبی سہولتوں کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ تفصیلات اس رپورٹ میں
شمالی کوریا: پہلا مشتبہہ کیس سامنے آنے پر سرحدی قصبے میں ایمرجنسی نافذ
شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے کرونا وائرس کا پہلا مشتبہ کیس سامنے آنے پر ایک سرحدی قصبے کیسنگ سٹی میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔
سرکاری میڈیا نے اتوار کو بتایا کہ مشتبہ متاثرہ شخص غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے جنوبی کوریا سے شمالی کوریا واپس آیا تھا جس سے شمالی کوریا میں بھی کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ تھا لہذا کم جونگ اُن نے سرحدی قصبے میں ہنگامی حالات کا اعلان کیا۔
حکام کے مطابق اگر مشتبہ شخص میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شمالی کوریا کی جانب سے باضابطہ طور پر تسلیم کیا جانے والا وبا کا پہلا کیس ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق ایک شخص جو تین سال قبل جنوبی کوریا منتقل ہوا تھا 19 جولائی کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرکے شمالی کوریا واپس پہنچا تھا تاہم شبہہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کا مریض ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس شخص کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا ہے یا نہیں۔