فرانس میں کیسز میں پھر اضافہ، بلا معاوضہ ٹیسٹ جاری رکھنے کا اعلان
فرانس میں لاک ڈاؤن ہٹائے جانے کے دو ماہ بعد کرونا وائرس کے کیسز میں ایک پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔
اس اضافے کو روکنے کے لیے شعبہ طب کے حکام نے بلا معاوضہ اور بغیر کسی طبی نسخے کے کرونا وائرس ٹیسٹ کرانے سے متعلق منصوبے میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کے جاری احکامات کے مطابق پی سی آر نسل سوئب ٹیسٹس جن سے کرونا وائرس کی تشخیص ہوتی ہے، بلا معاوضہ ہوں گے جب کہ ٹیسٹ کے لیے طبی عملے کو کہیں بھی طلب کیا جاسکے گا۔
فرانس کے وزیر صحت اولیویر ویرن نے اتوار کو ایک مقامی روزنامے کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ کرونا وائرس میں اضافے کو ہرگز وبا کی دوسری لہر قرار نہیں دیں گے لیکن یہ واضح ہے کہ حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے حالاں کہ اس سے قبل گزشتہ 13 ہفتوں کے دوران ہم کیسز کم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
مئی میں دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سے اب تک ملک بھرمیں یومیہ ایک ہزار نئے کیسز کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر سخت احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
پنجاب میں کیسز کی تعداد 91 ہزار سے متجاوز
پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کرونا وائرس کے مزید 210 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 91901 ہو گئی ہے۔
پنجاب کے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے ترجمان کے مطابق کرونا وائرس سے مزید تین افراد کی موت ہوئی ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 2116 ہو گئی ہے۔
صوبے بھر میں اب تک 692613 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق کرونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 81253 ہے۔
حکام نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔
بھارت: کچرا چننے والے کرونا وائرس سے کیوں نہیں ڈرتے؟
منصور خان اور ان کی اہلیہ لطیفہ بی بی تقریباً 20 برس سے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں ایک بہت بڑی کچرا پٹی سے پلاسٹک اور دیگر اشیا چننے کا کام کرتے آ رہے ہیں۔
وہ دونوں اس کام سے ہونے والی پانچ ڈالر (375 بھارتی روپے) یومیہ کی آمدن سے گھر کے اخراجات کے علاوہ تین بچوں کے اسکول فیس ادا کرتے ہیں۔ منصور اور ان کی اہلیہ بچوں کو کچرا پٹی کے تعفن سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے میں کوشاں ہیں۔
پچھلے کچھ ماہ سے کچرا پٹی پر بائیو میڈیکل فضلے کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے سبب ماہرین کا کہنا ہے کہ کچرا چننے والوں کی صحت کو وبائی مرض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
طبی عملہ عالمی وبا سے لڑتے لڑتے تھک گیا ہے، لوگ بھی احتیاط کریں، ایران
ایران نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کریں کیونکہ یہ ایک مہلک وائرس ہے اور اتوار کے روز اس نے تہران میں 216 زندگیاں نگل لیں۔
ایران کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ طبی عملہ مہلک وبا کے خلاف لڑائی میں تھک چکا ہے، اس لیے اب یہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حفاظتی ضابطوں پر سنجیدگی سے عمل کر کے طبی عملے کا بوجھ بٹائیں۔
ایران میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت 19 فروری کو ہوئی تھی جس سے مشرق وسطی میں تیزی سے پھیلنے والی اس مہلک وبا کی شروعات ہوئی۔
ایران میں کرونا وائرس میں تیزی جون سے آئی ہے اور پچھلے ہفتے سے وہاں ہر روز 200 کے لگ بھگ اموات ہو رہی ہیں جب کہ منگل کے روز عالمی وبا میں مبتلا 229 مریض اپنی جان کی بازی ہار گئے۔
وزارت خارجہ کی ترجمان سیما سادت لاری نے اتوار کے روز ٹیلی وژن پر ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرونا انفکشن اور اس کے خلاف لڑنے والے طبی عملے کا تھک جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم وبا کے پھیلاؤ کو روک کر طبی عملے کی مدد کر سکتے ہیں۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم گائیڈ لائنز پر عمل کریں، مثلاً چہرے پر ماسک پہننا، سماجی فاصلہ رکھنا اور دن میں کئی بار ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا وغیرہ۔
اس مہینے کے شروع میں ایران نے کہا تھا کہ اس کے طبی عملے کے 5000 سے زیادہ کارکنوں کو کرونا وائرس لگ چکا ہے جن میں سے 140 اہل کار اپنی زندگیوں سے محروم ہو گئے۔
لاری نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 216 اموات کے بعد اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15700 سے بڑھ گئی ہے۔
ایران میں پچھلے ایک روز کے دوران مزید 2333 افراد میں کرونا انفکشن کی تصدیق ہوئی، جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد 291172 ہو گئی ہے۔
عہدے داروں نے بتایا ہے کہ ملک کے 31 صوبوں میں سے 12 میں وبا ریڈ سکیل پر پہنچ چکی ہے۔ جب کہ 13 صوبے الرٹ کیٹیگری میں ہیں۔ الرٹ سے مراد ریڈ کیٹیگری کے قریب ترین کا درجہ ہے۔ جب کہ ریڈ وبا کی ہلاکت خیزی اور پھیلاؤ کا سب سے اونچا درجہ ہے۔
حکام نے عمارتوں کے اندر عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔ جب کہ تہران سمیت سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن جیسی پابندیاں دوبارہ لگانے کی اجازت دے دی ہے۔
ایران نے اپنی معیشت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے اپریل میں بندشوں کی پابندیاں اٹھا لیں تھیں۔