برطانیہ میں سات کے بجائے 10 روز تک آئسولیشن میں رہنا لازمی قرار
برطانوی حکام نے وائرس کی تشخیص یا علامات رکھنے والے افراد کے لیے آئسولیشن میں رہنے کے لیے میعاد میں توسیع کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب وائرس سے متاثرہ مریض یا علامات رکھنے والے سات کے بجائے 10 روز تک آئسو لیشن میں رہنے کے پابند ہوں گے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس حکم پر فوری طور پر عمل درآمد ہو گا۔
برطانیہ میں کرونا کے تین لاکھ سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جب وائرس سے اب تک 45 ہزار سے اموات ہوئی ہیں۔
بھارت میں ریکارڈ 52 ہزار سے زائد کیس
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 52 ہزار 123 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ایک روز کے دوران ملک میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا وبا کے شکار مزید 775 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد 34 ہزار 968 تک پہنچ گئی ہے۔
ریاست مہاراشٹر، کرناٹکا، تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی کل تعداد 15 لاکھ 83 ہزار 792 ہے جس میں سے دس لاکھ 20 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 70 لاکھ، اموات چھ لاکھ 70 ہزار کے قریب
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 70 لاکھ اور اموات 670000 کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ بدستور پہلے نمبر پر ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کرونا وائرس کے 44 لاکھ مستند کیسز موجود ہیں جب کہ اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بھی ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
کیلی فورنیا، فلوریڈا اور ٹیکساس سمیت امریکہ کی کچھ ریاستوں میں روزانہ کی بنیاد پر نئے کیسز کی ریکارڈ تعداد سامنے آ رہی ہے۔
امریکہ کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد ریاستوں میں کاروبار، ہوائی سفر اور عوامی تفریح کے مقامات قبل از وقت کھول دیے گئے ہیں۔
عازمینِ حج کی تعداد کم ہونے سے صومالیہ کے مویشیوں کی برآمدات متاثر
کرونا وائرس کے باعث رواں برس حج میں عازمین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے افریقی ملک صومالیہ کی لائیو اسٹاک کی صنعت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
صومالیہ ہر سال حج کے موقع پر سعودی عرب کو قربانی اور عازمین کی خوراک کے لیے لاکھوں جانور برآمد کرتا ہے۔
ریسرچ جرنل 'ویٹرنری میڈیسن اینڈ سائنس' کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے 2019 میں حج کے سیزن میں 30 لاکھ سے زائد بھیڑ، بکریاں، گائے، بیل اور اونٹ درآمد کیے تھے جن میں سے بڑا حصہ صومالیہ سے آیا تھا۔
لیکن اس بار عازمین کم ہونے کی وجہ سے سعودی عرب نے حج سیزن کے لیے صومالیہ سے جانور درآمد نہیں کیے۔
دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں افراد حج کے اجتماع میں شریک ہوتے ہیں اور گزشتہ سال دنیا بھر سے لگ بھگ 25 لاکھ مسلمانوں نے حج ادا کیا تھا۔
تاہم رواں برس سعودی حکام نے کرونا وائرس کے باعث حج کو محدود کر دیا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس بار صرف 10 ہزار تک عازمین حج ادا کر رہے ہیں۔
جنوبی صومالیہ سے تعلق رکھنے والے مویشیوں کے تاجر حسن فرح ہر سال حج کے دنوں میں بہت مصروف ہوتے تھے اور ان کا زیادہ تر وقت بحری جہازوں میں مویشی لاد کر سعودی عرب بھیجنے میں گزرتا تھا۔ لیکن رواں برس اُن کے بقول کرونا وائرس نے اُن کا کاروبار تباہ کر دیا ہے۔