آسٹریلیا: ریاست وکٹوریہ میں کیسز 10 ہزار سے تجاوز کر گئے
آسٹریلیا کی دوسری گنجان آباد ریاست وکٹوریہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس سے آٹھ اموات اور 627 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
آسٹریلیا میں کیسز کی مجموعی تعداد 17 ہزار سے زیادہ ہے جن میں سے 10 ہزار سے زیادہ کیسز صرف وکٹوریہ میں ہیں۔
ریاست وکٹوریہ میں اب تک کرونا وائرس کے 112 مریض ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
گزشتہ روز وکٹوریہ میں ریکارڈ 723 کیسز اور 13 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔
امریکہ میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والا کتا چل بسا
امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والا پہلا کتا چل بسا ہے۔ کتے میں اپریل میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔
نیشنل جیوگرافک میگزین کے مطابق جرمن شیفرڈ نسل کا سات سالہ کتے رواں ہفتے دم توڑ گیا ہے۔ کتے میں وہیں علامات پائی گئیں تھیں جو کرونا وائرس کے شکار انسانوں میں پائی جاتی ہیں۔
میگزین کا کہنا ہے کہ کرونا سے ہلاک ہونے والے کتے میں اس وقت وائرس منتقل ہوا تھا جب اس وبا کا شکار ہونے والے اس کے مالک رابرٹ مہونی صحت یاب ہو رہے تھے۔
میگزین کے مطابق کتے کو زکام اور سانس لینے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں جس کی شدت میں رواں ماہ اضافہ ہو گیا تھا۔
فلپائن: لاک ڈاؤن میں اگست کے وسط تک توسیع
فلپائن میں کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے پابندیاں مزید سخت کرنے کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی گئی ہے۔
فلپائن کے صدر روڈریگو ڈورٹے نے جمعy کو ٹی وی پر خطاب کے دوران کہا کہ دارالحکومت منیلا میں لاک ڈاؤن میں اگست کے وسط تک توسیع کی جارہی ہے۔
یہ اقدام کرونا وائرس سے ایک دن کے دوران سب سے زیادہ اموات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
دارالحکومت منیلا اور جنوبی وسطی صوبوں میں جون سے اب لاک ڈاؤن جاری ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے بچوں اور بوڑھوں کو خاص طور سے بلا ضرورت باہر نکلنے کی اجازت نہیں جب کہ ان علاقوں میں واقع ریسٹورنٹس سے لے کر جم تک سب بند ہیں۔
برطانیہ: وبا کی دوسری لہر کا خدشہ، شمالی انگلینڈ میں لاک ڈاؤن
برطانیہ نے کرونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشے کے پیشِ نظر انگلینڈ کے شمالی علاقوں میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔
برطانیہ میں جمعرات کو ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران کرونا وائرس کے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 846 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو 28 جون کے بعد کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
شمالی انگلینڈ کے بڑے شہر مانچسٹر کے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں میں ہی رہیں جب کہ مغربی یارک شائر اور مشرقی لنکا شائر کے مکینوں کو کہا گیا ہے کہ وہ شراب خانوں اور اپنے کاموں کو جا سکتے ہیں۔
برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکوک نے کہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے باعث عوام کی مشکلات کا ادراک رکھتے تھے تاہم وبا کے تیزی سے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے بدقسمتی سے ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یورپ میں کرونا وائرس کی دوسری لہر دیکھ رہے ہیں جس کے لیے ہمیں ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔