ہانگ کانگ میں کرونا کے مزید 121 کیس رپورٹ
ہانگ کانگ میں جمعے کو کرونا وائرس کے مزید 121 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد یہاں وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 3100 ہو گئی ہے۔
جمعرات کو ہانگ کانگ میں ایک ہی دن میں سب سے زیادہ 149 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں مقامی سطح پر کیسز کی منتقلی میں اضافہ تشویش ناک ہے۔
جمعے کو رپورٹ ہونے والے 121 کیسز میں 118 مقامی سطح پر منتقل ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں یہ وائرس کی تیسری لہر ہے۔ رواں ماہ وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آئی ہے۔
سماجی فاصلوں کے باعث موسمی فلو کے کیسز میں بھی ریکارڈ کمی
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سماجی فاصلے رکھنے سے موسمی فلو کے کیسز میں بھی کمی آئی ہے۔
مختلف ملکوں کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کرونا کے لیے کی جانے والی احتیاطی تدابیر دیگر بیماریوں سے بچنے میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل ملک میں ہر ماہ موسمی فلو اور دیگر وبائی امراض کے دو لاکھ نوے ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوتے تھے جو اب کم ہو کر صرف 23 ہزار کے لگ بھگ رپورٹ ہو رہے ہیں۔
جن امراض کی شرح میں واضح کمی آئی ہے ان میں موسمی انفلوائنز، خسرہ اور دیگر وائرل انفیکشنز شامل ہیں۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکہ میں صحت کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ موسمی فلو کے کیسز میں حالیہ مہینوں کے دوران خاطر خواہ کمی آئی ہے۔
جنوبی کوریا میں وبائی امراض سے متعلق پورٹل کے مطابق موسمی فلو کے کیسز کی شرح میں گزشتہ سال کی نسبت 83 فی صد تک کمی آئی ہے۔
ویتنام میں کرونا سے پہلی ہلاکت: سرکاری میڈیا
ویتنام کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملک میں کرونا وائرس کے باعث جمعے کو پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
ویتنام میں 99 روز کے طویل وقفے کے بعد چند روز قبل دوبارہ وائرس نے سر اُٹھایا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 70 سال اور گردے کے امراض کی وجہ سے اسپتال میں زیرِ علاج تھے جہاں اُن میں کرونا کی بھی تشخیص ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں لگ بھگ چھ مریضوں کی کرونا کے باعث حالت تشویش ناک ہے۔
ویتنام میں جمعے کو کرونا کے مزید 45 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ملک بھر میں وائرس کے مجموعی کیس 500 سے بڑھ چکے ہیں۔
ممبئی کی غریب آبادیوں میں کرونا وائرس کے خلاف اجتماعی مدافعت پیدا ہو رہی ہے
ممبئی کی غریب آبادیوں میں کیے گئے ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں رہنے والوں کی نصف سے زیادہ تعداد میں کوویڈ 19 کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہو گئی ہیں۔
آبادی کے ایک بڑے حصے میں اینٹی باڈئز کا سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کے انتہائی گنجان آباد علاقے، جو کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں، وہاں ممکنہ طور پر اجتماعی مدافعت (herd immunity)پیدا ہو رہی ہے جو وہا کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ غریب آبادیوں میں نادانستگی میں اجتماعی مدافعت پیدا ہونے کا امکان ہے، عہدے داروں نے اسے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے ایک طریقے کے طور پر یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجتماعی مدافعت کبھی بھی ہماری چوائس نہیں رہی، اور یہ محض اس وبا کے پھیلاؤ کا فطری نتیجہ ہے۔
اجتماعی مدافعت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنے اندر وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کر لیتا ہے، اور وہ وبا کا پھیلاؤ روکنے میں ایک دیوار کا کام کرتی ہے۔
حالیہ عرصے میں بھارت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں 16 لاکھ سے زیادہ افراد اس وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ متاثرین کی عالمی فہرست میں امریکہ اور برازیل کے بعد بھارت تیسرے نمبر پر ہے۔
ممبئی میں کیے گئے سروے سے یہ پتا چلا ہے کہ شہر کے متمول حصے کی نسبت جہاں 16 فی صد آبادی رہتی ہے، تین غریب آبادیوں میں 57 فی صد افراد وائرس میں مبتلا ہوئے ہیں اور ان کے اینٹی باڈیز ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس غریب آبادیوں میں زیادہ تیزی سے پھیلا ہے جہاں ایک ایک کمرے میں 8 سے 10 تک افراد رہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے سماجی فاصلہ قائم رکھنا ممکن نہیں ہے۔
اس تصویر کا ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ اگرچہ ان آبادیوں کے اکثر رہائشی کرونا وائرس میں مبتلا ہوئے لیکن ان میں وبا کی علامتیں ظاہر نہیں ہوئیں اور اگر کسی میں ہوئیں بھی تو وہ بہت معمولی نوعیت کی تھیں۔ اس وجہ سے ان کا کبھی کرونا ٹیسٹ نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ افراد وبا سے متاثرہ افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے۔
ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈیمنٹل ریسرچ کے ایک پروفیسر اولاس کولتھر کہتے ہیں کہ ہم محتاط انداز میں یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ غریب آبادیاں جلد یا بدیر عالمی وبا کے خلاف اجتماعی مدافعت کی سطح پر پہنچ جائیں گی، لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ اجتماعی مدافعت کب تک برقرار رہ سکے گی۔
ممبئی کا شمار بھارت کے کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں ہوتا ہے، لیکن اب وہاں اس کا زور ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے۔ اور سب سے اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ شہر کی غریب آبادیوں میں جہاں 50 لاکھ سے زیادہ افراد رہتے ہیں، حالیہ دنوں میں وائرس کا پھیلاؤ مسلسل گر رہا ہے۔