آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ آفت زدہ قرار، رات کا کرفیو نافذ
آسٹریلیا میں حکومت نے ریاست وکٹوریہ کو آفت زدہ قرار دے کر رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
حکومت نے یہ اقدام کرونا وائرس پر قابو پانے کی غرض سے کی جانے والی سخت پابندیوں کے تناظر میں کیا ہے۔
ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں 6 ہفتوں یعنی ستمبر کے وسط تک نافذ العمل رہیں گی۔
اعلان کردہ نئی پابندیوں کے تحت لاک ڈاؤن کے دوران کسی کو بھی بلاضرورت گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سودا سلف یا روزمرہ کی اشیا خریدنے کے لیے ایک گھر کے صرف ایک فرد کو ہی دن کے اوقات میں ایک بار خریداری کی اجازت ہوگی۔
ہانگ کانگ میں ایک سال کے لیے انتخابات ملتوی، امریکہ کی مذمت
ہانگ کانگ میں آئندہ ماہ چھ ستمبر کو قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے تھے جسے کرونا وائرس کے باعث ایک سال کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکہ نے ہانگ کانگ کی حکومت کے ایک سال کے لیے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔
انتخابات ملتوی کیے جانے پر امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ ایسی کوئی حقیقی وجہ موجود نہیں ہے کہ اتنے طویل عرصے کے لیے انتخابات ملتوی کیے جائیں۔
چین کی حامی ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لم نے اعلان کیا تھا کہ شہر میں قانون ساز اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے انتخابات ایک سال کے لیے کرونا وائرس کے باعث ملتوی کیے جا رہے ہیں۔
رکشا بندھن پر کسی بھی عوامی تقریب یا پروگرام پر پابندی
بھارت کی ریاست اتر پردیش میں عوام کے لیے جاری حفاظتی تدابیر کی ہدایات کے مطابق اس بار رکشا بندھن کے موقع پر کسی بھی قسم کی عوامی تقریب یا پروگرام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
عوام کو گھروں پر رہ کر رکشا بندھن کا تہوار منانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تاہم تہوار کی مناسبت سے ہفتے اور اتوار کو ہر قسم کی مٹھائی اور راکھی فروخت کرنے والوں کی دکانوں کو کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
پنجاب میں سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان
پنجاب کی حکومت نے صوبہ بھر میں فوری طور پر اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے لاک ڈاون 5 اگست کی بجائے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مویشی منڈیوں سے لیے گئے اسمارٹ سیمپلز کے نتائج حوصلہ افزا آنے پر اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق عیدالاضحٰی پر بازاروں اور تجارتی مراکز کی بندش سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کم ہونے پر فیصلہ کیا گیا۔
نوٹیفکیشن میں 5 اگست کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اجتماع کی اجازت ہو گی۔ تمام متعلقہ ادارے کشمیر ریلی کے دوران سماجی فاصلہ اور دیگر تمام ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق تعلیمی ادارے، شادی ہال، ریسٹورنٹ، پارک اور سینما ہال بدستور بند رہیں گے۔ سماجی اور مذہبی اجتماعات، کھیل کی سرگرمیوں کے لیے اجتماع کی اجازت نہیں ہو گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام کاروباری مقامات صبح 9 سے شام 7 بجے تک، سوموار تا جمعہ کھلے رہیں گے۔ میڈیکل اسٹور، پنکچر شاپ، آٹا چکی تندور، زرعی ورکشاپس 24 گھنٹے کھلی رکھنے کی اجازت ہو گی جب کہ کال سنٹرز کو 50 فی صد سٹاف کے ساتھ کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی۔
بین الاضلاع ٹرانسپورٹ 24 گھنٹے چلنے کی اجازت ہو گی۔ گراسری اور کریانہ سٹور صبح 9 سے شام 7 تک، ہفتہ بھر کھلے رہیں گے۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چرچ صرف اتوار کو صبح 7 سے شام 5 بجے تک عبادت کے لیے کھلے رہیں گے۔ نوٹیفکیشن کا اطلاق فی الفور ہو گا جو کہ 17 اگست تک نافذ العمل رہے گا۔
یاد رہے حکومتِ پنجاب نے عیدالاضحٰی پر کرونا وائرس کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے گزشتہ ماہ 28 جولائی کو صوبہ بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔ جسے پانچ اگست تک نافذالعمل رہنا تھا۔