رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:21 3.8.2020

آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر ملبورن میں پابندیاں مزید سخت

فائل فوٹو
فائل فوٹو

آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر ملبورن میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اتوار سے رات کا کرفیو عائد کر دیا ہے جو آئندہ چھ ہفتوں تک نافذ العمل رہے گا۔ ملبورن میں رات آٹھ بجے سے صبح پانچ بجے تک گھروں سے نکلنے پر پابندی ہو گی۔

ملبورن میں تمام غیر ضروری کاروباروں کو بھی دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ ملبورن کے زیادہ تر اسٹوروں کی بندش کے علاوہ تعمیرات اور گوشت کے پیداواری کارخانوں کو جمعے سے کاروبار محدود کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمۂ صحت کے حکام نے ریاست وکٹوریہ میں 'کووڈ 19' کے 429 نئے کیسز اور 13 اموات کی اطلاع دی ہے۔ ان کیسز میں ملبورن میں رپورٹ ہونے والے کیسز بھی شامل ہیں۔ ریاست وکٹوریہ نے کرونا وائرس کی وبا کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

04:40 4.8.2020

ایران میں کرونا وائرس سے اموات کی اصل تعداد تین گنا زیادہ ہے، رپورٹ

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی فارسی سروس کو گم نام ذرائع سے ملنے والی دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ ایران میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد سرکاری تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔

بی بی سی کی فارسی سروس کا کہنا ہے کہ افشا ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کا محکمہ صحت کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی جو تعداد بتا رہا ہے، وہ اصل تعداد سے کم از کم تین گنا کم ہے۔ ایران کی حکومت اس سلسلے میں حقائق کو چھپا رہی ہے۔

بی بی سی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے اس ملک میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات ایرانی حکومت کی اعلان کردہ تعداد سے تقریباً تین گنا زیادہ ہیں۔ اصل میں ایران میں 20 جولائی تک 42 ہزار اموات ہو چکی تھیں، جب کہ محکمے نے صرف 14405 اموات کا اعلان کیا۔

اسی طرح انفکشن کی شرح بھی مجموعی طور پر کم بتائی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شرح دوگنی کے قریب ہے۔ محکمہ صحت نے انفکشن کی تعداد 278827 بتائی ، جب کہ بی بی سی کی اطلاعات کے مطابق یہ تعداد 451024 ہے۔

بی بی سی کو جو میڈیکل رپورٹس ملی ہیں، ان کے مطابق ایران میں کرونا وائرس کی پہلا ہلاکت 22 جنوری کو ہوئی۔ جب کہ ایران نے تقریباً ایک مہینے تک اس خبر کو دبائے رکھا۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ ایران خواہ حقیقت پر کتنا ہی پردہ ڈالے، یہ بات عیاں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کرونا وائرس سے ایران سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

نامعلوم ذرائع نے، جس کا نام پوشیدہ رکھا گیا ہے، بی بی سی کو بتایا کہ اس نے یہ دستاویزات اصل حقائق منظر عام پر لانے کی غرض سے افشا کی ہیں۔ اور اس کا مقصد کرونا وائرس کے معاملے سیاسی داؤ پیچ کے سلسلے کو ختم کرنا ہے۔

04:42 4.8.2020

اقوام متحدہ کی کرونا وائرس پر کنٹرول کے لیے پاکستان کی امداد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے ورچوئل بریفینگ میں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے سلسلے میں مختلف شعبوں میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔

نیویارک سے وائس آف امریکہ نامہ نگار مارگریٹ بشیر نے خبر دی ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے دو لاکھ 80 ہزار سے زیادہ کیسیز ہیں اور 6 ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی خدمت کرنے والے شراکت کار کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں خشک سالی کے شکار افراد میں 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ نقد رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ کشمیر میں برفباری کی وجہ سے متاثرہ 12 ہزار گھرانوں کو خوراک مہیا کی گئی۔

اسی طرح خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں کرونا وائرس سے اقتصادی طور پر متاثر ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد کے لیے ہنگامی خوراک کی امداد کی فراہمی کی جا رہی ہے۔

35 ہزار پناہ گزین خاندانوں کو بھی نقد رقم دی گئی ہے۔ جب کہ تقریباً 30 لاکھ افراد کے لیے نکاسی آب، صاف پانی اور صحت عامہ کی سہولتیں بہم پہنچائی گئی ہیں۔

کرونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جو امداد مانگی گئی ہے وہ 146 ملین ڈالر ہے، جس میں سے ایک چوتھائی امداد کی فنڈنگ ہو چکی ہے۔

04:48 4.8.2020

موسم سرما کے آغاز پر ہمارے پاس کرونا وائرس کی موثر ویکسین ہو گی، ڈاکٹر فاؤچی

امریکہ میں وبائی امراض کے سب سے بڑے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ جب ہم موسم خزاں کے آخر اور موسم سرما کے شروع میں پہنچیں گے تو حقیقت میں ہمارے پاس ایک ویکسین ہو گی جس کے بارے میں ہم کہہ سکیں گے کہ وہ محفوظ اور موثر ہے۔

فاؤچی نے بتایا کہ ویکسین کی منظوری کے آخری مرحلے میں، فیز 3 کی آزمائش حال ہی میں شروع ہوئی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG