ناروے: بحری جہازوں کی آمد پر پابندی
ناروے نے ‘ٹرومسو بندرگاہ’ پر لنگر انداز ہونے والے بحری جہاز کے عملے اور مسافروں میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد تمام ایسے بحری جہازوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی ہے جن میں 100 سے زائد افراد سوار ہوں گے۔
ناروے کی وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق ناروے کے ‘ایم ایس رولڈ ایمنڈسن’ بحری جہاز پر سوار 41 مسافروں اور عملے کے ارکان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ جب کہ جہاز پر سوار دیگر سیکڑوں مسافروں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ناروے کی طرف سے جرمنی، ڈنمارک، آسٹریا، فلپائن اور لٹویا کو خبردار کر دیا گیا ہے۔ جن کے مسافر بحری جہاز پر سوار تھے۔
ناروے کے وزیرِ صحت بینٹ ہوئی کا کہنا ہے کہ جو بحری جہاز ناروے کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔ انہیں لنگر انداز ہونے کی اجازت ہو گی۔ تاہم جن جہازوں نے اپنا سفر ابھی شروع کرنا ہے۔ یہ پابندی ان کے لیے ہوگی جو کہ اگلے 14 روز کے لیے ہے۔
آسٹریلیا: ریاست وکٹوریہ میں فوج تعینات
آسٹریلیا کی دوسری بڑی گنجان آباد ریاست وکٹوریہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے منگل سے فوج تعینات کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے سبب گھروں میں قید رہنے کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 14 ہزار امریکی ڈالرز سے زائد کا جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ریاست وکٹوریہ کے پریمیئر ڈینئل اینڈریوز کا کہنا ہے کہ شہریوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے لیے 500 فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
وکٹوریہ میں منگل کو کرونا وائرس کے 439 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ریاست وکٹوریہ میں اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 12 ہزار کے قریب ہو گئی ہے۔
لاطینی امریکہ میں کیسز کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی
دنیا بھر میں لاطینی امریکہ کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ بن گیا ہے۔ جہاں اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
کولمبیا کی وزارتِ صحت کے مطابق لاطینی امریکہ میں پیر کو کرونا وائرس کے 10 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ اس خطے میں اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ ہو گئی ہے۔
لاطینی امریکہ کے ملک برازیل میں ‘کووڈ 19’ کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 96 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ جب کہ میکسیکو میں اس وبا سے 48 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق لاطینی امریکہ میں اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ہونے والے اضافے کی وجہ غربت اور آبادی میں اضافہ ہے۔
پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں میں معمول کی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے صوبے پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب کے تمام اسپتالوں میں معمول کی سرگرمیاں دوبارہ سے شروع کی جائیں گی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں حیرت انگیز کمی واقع ہو رہی ہے۔ جس کے باعث اسپتالوں کو معمول کے مطابق کھولا جا رہا ہے۔
صوبے کے مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج کرونا وائرس کے مریضوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو اسپتال میں کرونا وائرس کے 10، ملتان کے نشتر اسپتال میں 27، ڈیرہ غازی خان میں دو اور گجرات میں کرونا کے تین مریض زیرِ علاج ہیں۔
گوجرانوالہ میں گزشتہ نو روز کے دوران کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
واضح رہے کرونا وائرس کے باعث صوبے بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتوں کو محدود کر دیا گیا تھا۔