رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:58 4.8.2020

کرونا کے خاتمے کے بعد اسکولوں میں بچوں کی واپسی اولین ترجیح ہونی چاہیے: انتونیو گوتیرس

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث اسکول بند ہونے سے دنیا بھر میں ایک پوری نسل کو بحران کا سامنا ہے۔

انہوں نے یہ بات منگل کو "ہمارا مستقبل بچائیں" کے عنوان سے اقوامِ متحدہ کی ایک مہم کے آغاز کے موقع پر ویڈیو کانفرنس کے دوران کہی۔ اس مہم کا مقصد دنیا میں تعلیم کی بحالی کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت 160 کے قریب ملکوں میں ایک ارب سے زائد بچے رسمی تعلیم سے محروم ہیں جب کہ کم از کم چار کروڑ بچے 'پِری اسکول' کی تعلیم شروع نہیں کر پائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معذور طلبہ، اقلیتوں، پناہ گزینوں اور بے دخل افراد کے بچوں کے لیے تعلیم میں پیچھے رہ جانے کا سنگین خطرہ موجود ہے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں 25 کروڑ طلبہ اسکول جانے سے محروم ہیں اور یہ ایک بڑا تعلیمی بحران ہے۔ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد طالب علموں کی اسکولوں میں واپسی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔

17:57 4.8.2020

کرونا وائرس کیسے پھیلا؟ عالمی ادارۂ صحت کی ٹیم کے ووہان میں ماہرین سے انٹرویو

فائل فوٹو
فائل فوٹو

چین میں تین ہفتوں سے موجود عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ٹیم نے چین کے شہر ووہان میں سائنس دانوں اور دیگر ماہرین کے تفصیلی انٹریو کیے ہیں۔ عالمی ادارے کی ٹیم کرونا وائرس کی ابتدا اور انسانوں میں منتقلی سمیت دیگر حقائق جاننے کے لیے چین پہنچی تھی۔

عالمی ادارۂ صحت کے ترجمان نے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماہرین کی ٹیم نے ووہان میں جانوروں پر تحقیق کے ادارے، صحت، حیاتیاتی اور وبائی امراض کے ماہرین سمیت دیگر حکام سے طویل ملاقاتیں کی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او میں ہنگامی حالات کے سربراہ مائیک ریان نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حیرت انگیز انکشافات کا امکان ہے۔

اُنہوں نے کہا تھا کہ جب ووہان میں صورتِ حال کی سنگینی کا ادارک ہوا تو ضروری نہیں کہ اسی وقت وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہو۔

عالمی ادارۂ صحت کے مشن میں جانوروں کی صحت اور وبائی امراض کے ماہرین شامل ہیں، جو اس بات کا تعین کریں گے کہ آخر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے اس وائرس کا ماخذ کیا تھا اور یہ کیسے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

کرونا وائرس کی ابتدا اور انسانوں میں منتقلی سے متعلق سوالات کے جوابات کے لیے دنیا بھر کے سائنس دان اور حکومتیں منتظر ہیں۔

مزید پڑھیے

04:27 5.8.2020

دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے گھر میں بھی ماسک پہنیں

ٹاسک فورس کی کو آرڈی نیٹر ڈیبرا برکس نے اتوار کے روز سی این این کے ایک پروگرام میں کہا ہے کہ اگر آپ کے گھر میں مختلف عمروں کے افراد رہتے ہیں۔ اور آپ کے شہر یا گاؤں میں کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے تو آپ کو اپنے گھر کے اندر بھی ماسک پہننے چاہیئں۔

کرونا وائرس اپنے ابتدائی مہینوں میں بڑے شہروں تک ہی محدود رہا لیکن اب وہ دیہی اور شہری آبادیوں، دونوں جگہ یکساں طور پر پھیل رہا ہے۔

کرونا وائرس ان لوگوں کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے جن کے اندر وائرس تو موجود ہو مگر اس کی علاماتیں ظاہر نہ ہوئی ہوں۔ ایک تازہ مطالعاتی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً نصف کے لگ بھگ نئے کیسز میں وائرس ایسے لوگوں کے ذریعے منتقل ہوا جن میں اس وقت تک علامتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں جب انہوں نے اسے آگے منتقل کیا۔

برکس نے کہا کہ اگر آپ کے گھر میں ایسے افراد موجود ہیں جو کرونا وائرس کا آسان ہدف بن سکتے ہیں، مثلاً انہیں شوگر یا دل کے امراض ہیں تو پھر آپ یہ تصور کرتے ہوئے کہ آپ کرونا پازیٹو ہیں، انہیں محفوظ رکھنے کے لیے گھر میں ماسک پہنے رہیں۔

جانزہاپکننز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے ایک سینئر سکالر امیش ادلجا کہتے ہیں کہ امریکہ کے بہت سے حصوں میں ہو یہ رہا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ انہیں کرونا لگ چکا ہے، اور وہ ٹیسٹنگ کے لیے بہت تاخیر سے اسپتال آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایمرجینسی ورکر ہے یا وہ کسی ایسی ملازمت پر ہے جس کے لیے اس کا باہر جانا ضروری ہے، تو یہ امکان موجود ہے کہ وہ ایسے افراد سے رابطے میں آ سکتا ہے جن میں وائرس موجود ہے۔ اور اگر وہ اپنے گھر میں کسی ناتواں شخص کے ساتھ رہ رہے ہیں تو اس صورت میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ زیادہ ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ہوا میں موجود آبی بخارات میں اس سے کہیں زیادہ وقت زندہ رہ سکتا ہے جتنا کہ اس سے پہلے خیال کیا گیا تھا، خاص طور پر بند جگہوں پر۔ اس صور ت میں اس سے بچنے کا موثر طریقہ ماسک کا استعمال ہے۔

04:29 5.8.2020

کرونا سے متاثرہ ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا ماں بھی اپنے شیر خوار بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔

جینوا سے وائس آف امریکہ کی نامہ نگار لیزا شلائین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحت کے ماہرین کو اس بارے میں تشویش ہے کہ کرونا وبا کی وجہ سے بہت سے بچے ماں کے دودھ سے محروم ہو گئے ہیں، جبکہ کرونا سے متاثرہ ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت میں خوراک اور غذائیت کے شعبے کے سربراہ لارنس گرومر سٹران کا کہنا ہے خواتین میں اس بارے میں آگہی پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ادارے کا تخمینہ ہے کہ ہر سال آٹھ لاکھ 20 ہزار بچے ماں کا دودھ نہ ملنے کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے ماں کا دودھ بچوں کو اسہال، تنفس، لیکیومیا اور فربہی سے منسلک بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دودھ پلانے والی خواتین سرطان اور ذیابیطیس سے محفوظ رہتی ہیں۔

گرومر سٹران نے وی اے او سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس میں مبتلا خواتین کو اپنے نو مولود بچے کو اپنا دودھ دیتے ہوئے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ دودھ کے ذریعے اس وائرس کے منتقل ہونے کا امکان شاذو نادر ہی ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ادارے کو دنیا بھر سے ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچہ کرونا وائرس کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے عام طور سے محفوظ رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چھ ماہ تک اگر بچوں کو ماؤں کا دودھ ملے تو اس بچے کی زندگی کا آغاز بے حد صحت مند ہوتا ہے۔

گرومر سٹران نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت کو اس سلسلے میں خاصی تشویش ہے۔ کیوں کہ فارمولا دودھ بنانے والی کمپنیاں اپنا دودھ فروخت کرنے کی خاطر غلط انداز میں تشہیر کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں ہر طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے نام پر بہت سی کمپنیاں صحت کے ماہرین کے طور پر ماؤں کو مشورے دیتی ہیں۔ مختلف ویب سائٹس پر بھی ایسی گمراہ کن خبریں عام ہیں۔ ہمیں ان منفی مشوروں کو نظر انداز کرنا چاہیے۔

ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ماں کے دودھ کا عالمی ہفتہ منایا جا رہا ہے۔ یکم اگست سے سات اگست تک منائے جانے والے اس ہفتے کے دوران صحت کے ادارے اس کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں مختلف تقاریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG