افغانستان میں 31 فی صد لوگ کرونا کا شکار ہوئے: رپورٹ
افغانستان کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد ملک کے تمام صوبوں میں اب تک اندازاً 31.5 فی صد لوگوں کو اس انفیکشن کا سامنا کرنا پڑا ہے یعنی ملک کی لگ بھگ ایک تہائی آبادی یا تقریباً ایک کروڑ افراد عالمی وبا کا شکار ہو چکے ہیں۔
نگران وزیرِ صحت ڈاکٹر احمد جواد عثمانی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ افغانستان میں وبا کے آغاز کے بعد سے اب تک کابل میں تقریباً 53 فی صد افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کی اموات کی تعداد کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔
افغانستان میں جان ہاپکنز یونیورسٹی کے تعاون سے ملک کے نو زونز میں اس جائزے کا انتظام کیا گیا تھا۔
نگران وزیرِ صحت نے یہ بھی بتایا ہے کہ عید الاضحیٰ کے بعد 'کووڈ 19' کے کیسز میں اضافہ نہیں ہوا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 11 صوبوں میں 'کووڈ 19' کے 47 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور ملک میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 36 ہزار 829 ہو گئی ہے جب کہ اموات کی تعداد 1294 ہے۔
جنوبی افریقہ: طبی عملے کے 24 ہزار ارکان کرونا کا شکار
جنوبی افریقہ میں طبّی عملے کے 24 ہزار سے زائد ارکان کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے وزیرِ صحت نے بدھ کو کہا ہے کہ مارچ 2020 میں وبا کے آغاز سے اب تک ملک میں طبی عملے کے 24 ہزار 104 ارکان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ وبا سے 181 طبی اہلکار ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ جنوبی افریقہ میں اب تک کووڈ 19 کے پانچ لاکھ 21 ہزار مریض سامنے آ چکے ہیں جو براعظم افریقہ سے سامنے آنے والے کل کیسز کی تقریباً نصف تعداد ہے۔
امدادی پیکج کے لیے وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹ اراکین میں تیسری ملاقات
وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان بدھ کو ایک مرتبہ پھر ملاقات کر رہے ہیں تاکہ اس ہفتے کے اختتام تک کرونا وائرس کے نئے امدادی پیکج پر اتفاق کیا جا سکے۔
اس تیسری ملاقات میں امریکی وزیرِ خزانہ اسٹیفن منوچن، وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مارک میڈوز، ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی اور سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر شرکت کر رہے ہیں۔
چک شومر کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں نئے امدادی پیکج کی ہر شق پر مرحلہ وار غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی نمائندوں نے کچھ تجاویز پیش کیں ہیں جو ہم نے منظور کر لیں اور کچھ تجاویز ہم نے پیش کیں جنہیں حکومتی نمائندوں نے سراہا ہے۔ تاہم بہت سی شقوں پر اب بھی اختلافِ رائے موجود ہے، اسے دور کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسٹیفن منوچن نے منگل کو ہونے والی 90 منٹ کی ملاقات کے بعد بتایا کہ اس ملاقات کا مقصد اس ہفتے کے اختتام تک نئے امدادی پیکج کو آخری شکل دینا ہے تاکہ اسے منظوری کے لیے آئندہ ہفتے کانگریس میں پیش کیا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف میڈوز کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والی بات چیت بہت مثبت رہی۔
خیال رہے کہ دونوں فریقین میں امدادی پیکج کے حجم پر اختلاف ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی 34 کھرب ڈالر کے پیکج کا مطالبہ کر رہی ہے جب کہ ری پبلکن پارٹی 10 کھرب ڈالر کے پیکج کی حامی ہے۔
کرونا سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کی شرح بڑھ رہی ہے: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارۂ صحت نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران نوجوانوں میں کرونا وائرس کے کیسز تین گنا بڑھنے کی نشان دہی کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ نوجوانوں کا سماجی فاصلے کی پابندی پر صحیح طریقے سے عمل نہ کرنا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گزشتہ فروری سے جولائی کے وسط تک سامنے آنے والے 60 لاکھ کرونا کیسز میں سے 15 فی صد مریض ایسے ہیں جن کی عمریں 15 سے 24 سال کے درمیان ہیں۔ فروی سے پہلے ایسے کیسز کا تناسب محض 4.5 فی صد تھا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ نوجوان کرونا وائرس سے متاثر نہیں ہو سکتے۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم کے مطابق نوجوان لوگ بھی 'کووڈ 19' سے متاثر ہو سکتے ہیں، وہ جان سے بھی جا سکتے ہیں اور یہ وبا دیگر لوگوں میں پھیلانے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے میں تساہل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور وہ اپنے کام کے مقامات پر، ساحلوں پر، شراب خانوں میں اور خریداری کے لیے بخوشی چلے جاتے ہیں۔
امریکہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور جاپان ایسے ممالک ہیں جہاں نوجوانوں میں کرونا وائرس کے اثرات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تفریحی مقامات پر ٹیسٹنگ بڑھانے پر غور کر رہے ہیں جہاں نوجوان افراد زیادہ تعداد میں آتے ہیں۔