کرونا وائرس: بائیڈن صدارتی نامزدگی قبول کرنے 'ملواکی' نہیں جائیں گے
امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن کرونا وبا کے باعث ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی قبول کرنے ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی نہیں جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد غالب امکان ہے کہ اب ڈیمو کریٹک پارٹی کا نیشنل کنونشن کرونا وبا کے باعث مکمل طور پر ورچوئل یا آن لائن ہو گا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق کنونشن منتظمین کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن اب رواں ماہ کے اختتام پر اپنی آبائی ریاست ڈیلاور میں صدارتی نامزدگی قبول کرنے کے علاوہ خطاب کریں گے جب کہ ملواکی کنونشن میں شرکت کے لیے آنے والے دیگر مقررین بھی اب یہاں نہیں آئیں گے۔
ملواکی کنونشن کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے یہ اقدام مقامی کمیونٹی، پروڈکشن ٹیم، سیکیورٹی اسٹاف، میڈیا اور دیگر افراد کو کرونا وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے اُٹھایا ہے۔
جو بائیڈن نے چار روزہ کنونشن کے اختتام پر 20 اگست کی شب حاضرین کے ایک مختصر اجتماع سے خطاب کرنا تھا۔
بھارت: مسلسل آٹھویں روز 50 ہزار سے زائد کیسز، ریکارڈ 904 اموات
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 904 اموات ہوئی ہیں جب کہ مسلسل آٹھویں روز 50 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
بدھ کو کرونا وائرس کے مزید 56 ہزار 282 مریض سامنے آنے کے بعد بھارت میں کرونا کیسز کی تعداد 20 لاکھ کے قریب پہنچ رہی ہے۔
کرونا سے ریکارڈ 904 اموات کے بعد ملک میں عالمی وبا کا شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد 40 ہزار 699 ہو چکی ہے۔ بھارت میں صرف گزشتہ 30 دنوں میں 20 ہزار اموات ہوئی ہیں۔
بھارتی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا کے 67 فی صد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ چھ لاکھ کے قریب لوگ اب بھی وائرس کا شکار ہیں۔ کرونا سے ہونے والی اموات کی شرح دو اعشاریہ صفر نو فی صد ہے۔
برازیل میں ہلاکتیں ایک لاکھ کے قریب
برازیل میں کرونا وائرس کی وبا کے آغاز کے تقریباً پانچ ماہ بعد عالمی وبا سے ہونے والی ہلاکتیں ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہیں جب کہ کیسز 28 لاکھ 59 ہزار سے زیادہ ہو چکے ہیں۔
برازیل میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو رپورٹ ہوا تھا جب کہ 16 مارچ کو ملک میں کرونا سے پہلی ہلاکت ہوئی تھی۔ لگ بھگ پانچ ماہ بعد اموات کی تعداد 97 ہزار 256 ہو گئی ہے۔
کرونا بحران، نیویارک میں جنوبی ایشیائی کاروباری طبقہ کن مشکلات سے دوچار ہے؟
کرونا وائرس کے سبب امریکہ میں سب سے زیادہ کیسز اور اموات نیویارک میں ریکارڈ کی گئیں۔ اگرچہ کرونا وائرس کے باعث لگائی جانے والی پابندیاں 3 ماہ بعد اب مرحلہ وار ختم کی جا رہی ہیں لیکن جنوبی ایشیائی کمیونٹی کو اپنی مشکلات جلد دور ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ دیکھیے انشومن آپٹے کی رپورٹ