کرونا وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں: ڈاکٹر فاؤچی
امریکہ میں اعلیٰ ترین طبّی مشیر اور ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ دنیا سے کرونا وائرس کا مکمل خاتمہ کبھی بھی نہیں ہو پائے گا۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ اس وائرس کے ختم نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ متعدی نوعیت کا وائرس ہے۔ یہ بہت آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مؤثر ویکسین کی تیاری اور مناسب احتیاطی تدابیر سے کرونا وائرس کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر فاؤچی نے مزید کہا کہ 2021 کے بعد اس وائرس پر بڑی حد تک قابو پائے جانے کے امکانات موجود ہیں۔ ان کے بقول وہ پر امید ہیں کہ اس وقت تک کرونا وائرس کی ایک مؤثر ویکسین تیار کر لی جائے گی۔
ڈاکٹر فاؤچی نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال کے آغاز میں کرونا ویکسین کی کروڑوں خوراکیں دستیاب ہو جائیں گی اور 2021 کے اختتام تک دوا ساز کمپنیاں ایک ارب خوراکیں تیار کر سکیں گی۔
ادھر امریکہ کی معروف دوا ساز کمپنی 'جانسن اینڈ جانسن' نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے ساتھ 10 کروڑ خوراکیں تیار کرنے کا معاہدہ کر چکی ہے۔ اس معاہدے کے تحت یہ کمپنی بعد میں ایک ارب خوراکیں تیار کرے گی۔
خیال رہے کہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں ایک کروڑ 88 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور سات لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
پاکستان میں ریستوران، سیاحتی و تفریحی مقامات کھولنے کا اعلان
پاکستان میں کرونا وائرس کا زور ٹوٹنے کے بعد حکومت نے پابندیاں مزید نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے آٹھ اگست سے سیاحتی مقامات اور 10 اگست سے سنیما، ریستورانوں میں ڈائن اِن، کیفے اور دیگر تفریحی مقامات کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
کرونا وائرس پر قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا۔
اسد عمر نے کہا کہ ملک بھر میں سیاحتی مقامات آٹھ اگست سے کھول دیے جائیں گے جب کہ سنیما گھر، ریستورانوں میں ڈائن اِن، کیفے، پارکس، میوزیم اور دیگر تفریحی مقامات 10 اگست سے کھولنے کی اجازت ہو گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جمنازیم اور اِن ڈور گیمز کی بھی اجازت ہو گی۔ البتہ کھیلوں کے مقابلے شائقین کے بغیر ہوں گے۔ بیوٹی پارلرز اور ایکسپو سینٹرز بھی کھولنے کی اجازت ہو گی۔
حکومت نے دکانیں کھولنے کے اوقاتِ کار بھی معمول پر لانے کا اعلان کیا ہے اور ہفتہ اور اتوار کو بازار بند رکھنے کی پابندی بھی ختم کی جا رہی ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں سے متعلق ابھی یہی فیصلہ ہے کہ وہ 15 ستمبر سے ہی کھلیں گے البتہ سات ستمبر کو صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اسد عمر نے کہا کہ روڈ ٹرانسپورٹ سروس بھی مکمل طور پر کھولی جا رہی ہے۔ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی بھی اجازت ہو گی لیکن میٹرو یا دیگر بسوں میں کھڑے ہو کر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ریلویز اور ایئر لائنز کے آپریشنز بھی مکمل طور پر فعال کیے جا رہے ہیں لیکن ستمبر کے آخر تک مسافروں کی تعداد کی شرط برقرار رہے گی۔
شادی ہالز سے متعلق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ شادی ہال 15 ستمبر سے کھولنے کی اجازت ہو گی اور ہوٹلوں میں بھی شادی کے فنکشن ہو سکیں گے۔
افغانستان میں عید کے بعد کیسز میں 100 فی صد اضافہ
افغانستان کی وزارتِ صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 108 نئے کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی ہے۔
ملک میں کرونا وائرس سے متاثر مریضوں کی کل تعداد36937 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے مقابلے میں عید کے بعد کرونا کے کیسز میں 100 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس پر کنٹرول میں عالمی ادارہ صحت کی مدد
عالمی ادارہ صحت کے ماہرین پر مشتمل ایک گروپ اس وقت جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوششوں میں مدد کر رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں جنوبی افریقہ میں کوویڈ 19 کے کیسز میں تیزی سےاضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کے پانچ لاکھ اور 30 ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ جس کے بعد جنوبی افریقہ کوویڈ 19 کے متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے 43 رکنی وفد میں موذی امراض کی روک تھام، صحت عامہ، امراض سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے ماہرین شامل ہیں جو کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی کوششوں میں مدد فراہم کریں گے۔
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم اپنا کام شروع کرنے سے پہلے جنوبی افریقہ کے صحت کے ادارے ک تحت روک تھام کی اب تک کی کارروائیوں کا جائزہ لے گی۔
اس کے بعد ڈبلیو ایچ او کے ماہرین ملک کے سب سے متاثرہ علاقوں یعنی مشرقی کیپ، فری سٹیٹ، گاؤٹنگ، کوازولو نیٹل اور پوما لنگا میں امدادی خدمات کو مستحکم اور بہتر بنانے میں مدد دے گی۔
جنوبی افریقہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں اب تک اس موذی مرض سے 92 ہزار افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے وزیر صحت ڈاکٹر زویلینی خیزی نے بتایا ہے کہ اب گاؤٹنگ، مغربی کیپ اور مشرقی کیپ میں اس مرض کے کیسز میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے، لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وبا ان علاقوں میں اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے یا نہیں۔