جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس پر کنٹرول میں عالمی ادارہ صحت کی مدد
عالمی ادارہ صحت کے ماہرین پر مشتمل ایک گروپ اس وقت جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوششوں میں مدد کر رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں جنوبی افریقہ میں کوویڈ 19 کے کیسز میں تیزی سےاضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کے پانچ لاکھ اور 30 ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ جس کے بعد جنوبی افریقہ کوویڈ 19 کے متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے 43 رکنی وفد میں موذی امراض کی روک تھام، صحت عامہ، امراض سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے ماہرین شامل ہیں جو کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی کوششوں میں مدد فراہم کریں گے۔
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم اپنا کام شروع کرنے سے پہلے جنوبی افریقہ کے صحت کے ادارے ک تحت روک تھام کی اب تک کی کارروائیوں کا جائزہ لے گی۔
اس کے بعد ڈبلیو ایچ او کے ماہرین ملک کے سب سے متاثرہ علاقوں یعنی مشرقی کیپ، فری سٹیٹ، گاؤٹنگ، کوازولو نیٹل اور پوما لنگا میں امدادی خدمات کو مستحکم اور بہتر بنانے میں مدد دے گی۔
جنوبی افریقہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں اب تک اس موذی مرض سے 92 ہزار افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے وزیر صحت ڈاکٹر زویلینی خیزی نے بتایا ہے کہ اب گاؤٹنگ، مغربی کیپ اور مشرقی کیپ میں اس مرض کے کیسز میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے، لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وبا ان علاقوں میں اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے یا نہیں۔
بھارت میں 62 ہزار سے زائد نئے کیسز، مریضوں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 62 ہزار 538 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کرونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 20 لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
بھارت میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 41 ہزار 585 ہے۔
پاکستان میں 782 نئے کیسز، 17 اموات
پاکستان میں جمعرات کو 20 ہزار 461 کرونا ٹیسٹس کیے گئے جن میں سے 782 مثبت آئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرسے ہونے والی اموات کی تعداد 17 رہی۔
پاکستان میں کرونا کے مریض دو لاکھ 82 ہزار ہو چکے ہیں جب کہ اموات 6052 ہیں۔ کرونا کیسز میں کمی آنے کے بعد حکومت پاکستان نے پابندیاں مزید نرم کرتے ہوئے آٹھ اگست سے سیاحت اور 10 اگست سے ریستوران اور تفریحی مقامات کھولنے کا اعلان کیا ہے۔