امریکہ میں اب تک دو لاکھ 65 ہزار سے زیادہ بچے کرونا میں مبتلا ہو چکے ہیں
امریکہ میں کرونا وائرس اب بچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ وبائی امراض کے کنٹرول کے وفاقی ادارے سی ڈی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسپتال میں داخل کرائے جانے والے بچوں میں سفید فام بچوں کے مقابلے میں ہسپانوی نسل کے بچوں کی تعداد 8 گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح سیاہ فام بچوں کی تعداد بھی سفید فام بچوں کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے 50 لاکھ سے زیادہ کیسز میں بچوں کی تعداد جن کی عمریں 17 سال سے کم ہیں، 2 لاکھ 65 ہزار ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچے کرونا وائرس کا بہتر طور پر مقابلہ کر رہے ہیں اور ان میں شفایاب ہونے کی شرح نمایاں طور پر اونچی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں عالمی وبا سے اب تک ہونے والی ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہلاکتوں میں بچوں کی تعداد ایک فی صد سے کم ہے۔
حکومت ضروری ادویات امریکی کمپنیوں سے خریدے، صدارتی حکم نامہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت حکومت کیلئے لازم ہے کہ وہ ضروری ادویات، غیر ملکی کمپنیوں کی بجائے امریکی کمپنیوں سے خریدیں۔
صدارتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو متعدی امراض کے پھیلاؤ، کیمیاوی، حیاتیاتی، تابکاری اور جوہری خطرات سے اپنے شہریوں، اہم بنیادی ڈھانچے، افواج اور معیشت کو تحفظ دینا ہو گا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ ہمیں ضروری ادویات، ماسک، دستانے، حفاظتی چشموں اور وینٹی لیٹروں سمیت دیگر طبی ساز و سامان کیلئے، غیر ملکی مینوفیکچرنگ پر انحصار کم کرنا ہو گا تا کہ ان چیزوں کی ممکنہ قلت کے خطرے کو کم کرنے کیلئے صحت سے متعلق اپنے ملکی شعبے کو متحرک کیا جائے۔
وائٹ ہاؤس کے مشیر برائے تجارت، پیٹر نیوارو کا کہنا تھا کہ اس حکم نامے کے تحت، امریکی حکومت ضروری ادویات کی ایک فہرست مرتب کرے گی، اور پھر انہیں چین جیسے غیر ممالک سے خریدنے کی بجائے، امریکی کمپنیوں سے خریدے گی۔
نیوارو نے کرونا وائرس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے ایک بات چین کے وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا سے سیکھی ہے تو وہ یہ ہے کہ ہم خطرناک حد تک ضروری ادویات، ماسک، دستانے، حفاظتی چشموں اور وینٹی لیٹروں سمیت دیگر طبی ساز و سامان کیلئے غیر ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔
نیوارو کا کہنا ہے کہ اس حکم نامے سے سرکاری محکموں میں امریکی مصنوعات کی خریداری جیسے اصول قائم ہوں گے، اور مقامی سطح پر تیار کی گئی ادویات کیلئے عائد ضوابط ختم ہوں گے۔ اس سے ادویات کی قیمتوں کو کم کرنے کیلئے درکار مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
تاہم ادویات بنانے والی تمام کمپنیاں امریکی مصنوعات خریدنے جیسے حکم نامے سے خوش نہیں ہوں گی۔
فارماسیوٹیکل ریسرچ اینڈ مینوفیچرنگ آف امریکہ ٹریڈ گروپ کے سربراہ، سٹیفن ابل کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اختراع اور کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔
سٹیفن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ادویات کی تیاری بڑا اچھا مقصد ہے، لیکن یہ ایک دن میں ممکن نہیں ہو سکتا، خاص طور پر طب میں اختراع اور امریکیوں کو درکار ادویات تک رسائی کی قیمت پر۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کیلئے اس کا متبادل ایک ایسی پالیسی ہو گی، جو فارماسیٹیکل کی سپلائی چین کو عدم استحکام کا شکار کئے بغیر، امریکہ میں ادویات کی مزید تیاری کے قابل بنائے۔
بھارت میں 60 ہزار سے کیس، پاکستان میں سیاحتی مقامات کھل گئے
بھارت میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور مجموعی کیس 20 لاکھ سے بڑھ گئے ہیں۔
ہفتے کو بھارت میں مزید 60 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ادھر پاکستان میں کرونا وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد ہفتے سے سیاحتی مقامات کھول دیے گئے ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے کاروباری مراکز میں اوقات کار کی پابندی بھی ختم کر دی ہے۔
البتہ حکام کا کہنا ہے کہ پابندیاں صرف اسی شرط پر ختم کی جا رہی ہیں کہ لوگ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 842 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی کیس دو لاکھ 59 ہزار سے بڑھ گئے ہیں۔
آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں 466 نئے کیسز سامنے آگئے
آسٹریلیا کی دوسری سب سے گنجان آباد ریاست وکٹوریہ میں ہفتے کو کرونا وائرس کے 466 نئے کیس سامنے آگئے۔
نئے کیسز سامنے آنے کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آ رہی ہے۔
وکٹوریہ میں کرونا وائرس کی یہ دوسری لہر ہے جس میں اب تک 21 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
ریاست کے اہم شہر میلبرن میں اب تک اس مہلک وبا کے باعث 181 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
البتہ حکام پراُمید ہیں کہ لاک ڈاؤن اور دیگر سماجی پابندیوں کی وجہ سے ریاست میں وبا کا زور ٹوٹ رہا ہے۔