روس کا کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ
روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کرونا وائرس کےخلاف نئی ویکسین کے استعمال کی باضابطہ اجازت دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ تاہم صدر نے اپنے دعوے سے متعلق کوئی مستند ڈیٹا پیش نہیں کیا کہ یہ ویکسین کس حد تک محفوظ ہے۔
روسی صدر نے منگل کو کابینہ کے اجلاس کے بعد سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر ہونے والی تقریر میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔
صدر پوٹن نے کہا کہ "میں جانتا ہوں کہ ماسکو کے گیمیلیا انسٹی ٹیوٹ کی تیار کردہ یہ ویکسین فوری اثر کرتی ہے اور اس سے کرونا کے خلاف قوات مدافعت ملتی ہے۔"
روسی صدر کا کہنا تھا کہ ویکسین کی منظوری تمام ضروری مراحل پورے کرنے کے بعد دی گئی ہے اور یہ بالکل محفوظ ہے۔
نئی ویکسین کا نام 'اسپتنک فائیو' رکھا گیا ہے جو 1957 میں اس وقت کے سوویت یونین کی جانب سے خلا میں بھیجا جانے والا پہلا مشن تھا۔
پاکستان میں 17 اموات، 730 نئے کیسز رپورٹ
امریکی حکومت کا کرونا کی ویکسین کے لیے'موڈرنا' کے ساتھ معاہدہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت اور امریکی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی ‘موڈرنا’ کے درمیان کرونا ویکسین کی 10 کروڑ خوراکیں فراہم کرنے کا معاہدہ ہو گیا ہے۔
منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ویکسین کی یہ خوراکیں وفاقی حکومت کی ملکیت ہوں گی اور وہ انہیں خرید رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق کرونا ویکسین کی منظوری ملتے ہی 10 کروڑ خوراکیں فراہم کی جائیں گی جب کہ پانچ کروڑ خوراکیں فوری طور پر دستیاب ہوں گی۔
یاد رہے کہ امریکہ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ جہاں عالمی وبا سے اب تک 51 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ ایک لاکھ 64 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پنجاب میں میٹرو بس سروس بحال
پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں چلنے والی میٹرو بس سروس بحال کر دی ہے۔
میٹرو بس سروس کو کرونا وائرس کے سبب رواں برس مارچ میں بند کر دیا گیا تھا۔
حکومتِ پنجاب نے جڑواں شہروں (اسلام آباد و راولپنڈی) اور لاہور میں چلنے والی میٹرو بس سروس کے لیے قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں۔
مسافروں کے میٹرو بس میں کھڑے ہو کر سفر کرنے پر پابندی ہو گی اور وہ سیٹ پر بیٹھ کر سفر کرنے کے پابند ہوں گے جب کہ مسافروں کے لیے دورانِ سفر ماسک پہننا لازم ہو گا۔
حکام کے مطابق میٹرو بس سروس کی بحالی سے قبل بسوں کو ڈس انفیکٹ کیا گیا تھا۔