- By ضیاء الرحمن
پنجاب: لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد کیسز میں معمولی اضافہ
پاکستان کے صوبے پنجاب کے سیکرٹری ہیلتھ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان یونس نے صوبے بھر کے تمام کمشنر اور ریجنل پولیس افسروں کو کرونا وائرس کے قواعد و ضوابط پر عمل کرانے کی سفارش کی ہے۔
عثمان یونس کے مطابق بازاروں اور شاپنگ مالز میں کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہو رہا جب کہ خریداری کے لیے آنے والے افراد نہ ماسک پہن رہے ہیں اور نہ ہی سماجی فاصلے کا خیال رکھا جا رہا ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ نے بتایا کہ لاک ڈان کے دوران کرونا کے مثبت کیسوں کی شرح ایک اعشاریہ پانچ فی صد تھی جو اب دو اعشاریہ پانچ فی صد ہو گئی ہے۔
عثمان یونس نے کہا کہ محکمۂ صحت روزانہ کی بنیاد پر صوبے میں کرونا کیسوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ اگرچہ صوبے بھر میں کرونا کیسوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے لیکن اگر احتیاط نہ کی گئی تو آئندہ دس سے پندرہ دنوں میں کرونا کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمۂ صحت پنجاب نے انتظامیہ اور پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو صورتِ حال بگڑ سکتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 95 ہزار سے زیادہ ہے اور اس وبا سے اب تک 2182 اموات ہوئی ہیں۔
ملائیشیا اور سنگاپور کی سرحد کاروباری سفر کے لیے کھل گئی
ملائیشیا اور سنگاپور نے لوگوں کی آمد و رفت کے لیے اپنی سرحد محدود پیمانے پر کھول دی ہے۔ یہ بارڈر کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگ بھگ پانچ ماہ سے بند تھا۔
سرحد کھلنے کے بعد کاروبار یا کام کے سلسلے میں سفر کرنے والوں کو ملائیشیا سے سنگاپور آنے جانے کی اجازت ہوگی۔ البتہ سیاحوں کے لیے بارڈر بند رہے گا۔
ملائیشیا کے وہ ورکرز جو سنگاپور میں ملازم ہیں، سرحد کھلنے کے بعد وہ بھی اپنے کاموں پر واپس جا سکیں گے۔
ملائیشیا نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مارچ میں لاک ڈاؤن کیا تھا جب کہ سنگاپور نے سات اپریل کو لاک ڈاؤن عائد کیا تھا۔ کرونا کیسز میں کمی کے بعد اب پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں مزید 15 مریض دم توڑ گئے
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے شکار مزید 15 مریض دم توڑ گئے جب کہ 615 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
'کرونا سے صحت یاب ہونے والے تین ماہ تک دوبارہ وبا کا شکار ہونے سے محفوظ رہتے ہیں'
امریکہ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے سابق عہدے دار اور ماہرِ امراض ڈاکٹر اسکاٹ گوٹلیب نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے لوگ یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ کم سے کم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک دوبارہ اس مرض کا شکار نہیں ہو سکتے۔
ڈاکٹر گوٹلیب نے یہ گفتگو اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' کے ایک پروگرام میں کی۔ ڈاکٹر گوٹلیب نے امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے 'سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن' کے کرونا سے متعلق نئے حقائق کے بارے میں بتایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریض کم از کم تین ماہ تک دوبارہ وائرس کا شکار ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔ البتہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ چھ سے 12 ماہ تک اپنی قوتِ مدافعت کی بدولت اس وبا کا دوبارہ شکار ہونے سے بچے رہیں۔