ملائیشیا اور سنگاپور کی سرحد کاروباری سفر کے لیے کھل گئی
ملائیشیا اور سنگاپور نے لوگوں کی آمد و رفت کے لیے اپنی سرحد محدود پیمانے پر کھول دی ہے۔ یہ بارڈر کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگ بھگ پانچ ماہ سے بند تھا۔
سرحد کھلنے کے بعد کاروبار یا کام کے سلسلے میں سفر کرنے والوں کو ملائیشیا سے سنگاپور آنے جانے کی اجازت ہوگی۔ البتہ سیاحوں کے لیے بارڈر بند رہے گا۔
ملائیشیا کے وہ ورکرز جو سنگاپور میں ملازم ہیں، سرحد کھلنے کے بعد وہ بھی اپنے کاموں پر واپس جا سکیں گے۔
ملائیشیا نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مارچ میں لاک ڈاؤن کیا تھا جب کہ سنگاپور نے سات اپریل کو لاک ڈاؤن عائد کیا تھا۔ کرونا کیسز میں کمی کے بعد اب پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں مزید 15 مریض دم توڑ گئے
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے شکار مزید 15 مریض دم توڑ گئے جب کہ 615 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
'کرونا سے صحت یاب ہونے والے تین ماہ تک دوبارہ وبا کا شکار ہونے سے محفوظ رہتے ہیں'
امریکہ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے سابق عہدے دار اور ماہرِ امراض ڈاکٹر اسکاٹ گوٹلیب نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے لوگ یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ کم سے کم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک دوبارہ اس مرض کا شکار نہیں ہو سکتے۔
ڈاکٹر گوٹلیب نے یہ گفتگو اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے 'سی بی ایس' کے ایک پروگرام میں کی۔ ڈاکٹر گوٹلیب نے امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے 'سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن' کے کرونا سے متعلق نئے حقائق کے بارے میں بتایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات تو یقینی ہے کہ کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریض کم از کم تین ماہ تک دوبارہ وائرس کا شکار ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔ البتہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ چھ سے 12 ماہ تک اپنی قوتِ مدافعت کی بدولت اس وبا کا دوبارہ شکار ہونے سے بچے رہیں۔
جنوبی افریقہ میں ویکسین کے تجربات کے دوسرے مرحلے کا آغاز
امریکہ کی ویکسین تیار کرنے والی کمپنی نووا ویکس کرونا وائرس کی ویکسین کے انسانوں پر تجربات کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔
کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دو ہزار 665 صحت مند اور بالغ افراد پر ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز ہوں گے۔
جنوبی افریقہ کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے جہاں عالمی وبا سے متاثرہ پانچ لاکھ 83 ہزار سے زیادہ مریض موجود ہیں جب کہ 11 ہزار 600 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔