پنجاب: محرم کے دوران شہریوں کے لیے قواعد و ضوابط جاری
پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے محرم الحرام کے دوران شہریوں کے لیے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کے بارے میں قواعد و ضوابط 45 نکات پر مشتمل ہیں۔ نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ شرکا مجلس کسی بھی چیز بالخصوص سبیلوں میں استعمال ہونے والے برتن، ٹرالی، دروازوں اور دیگر اشیا کو چھونے کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں۔ دوران ِ مجالس موقع پر ہاتھ دھونے کا انتظام، سینی ٹائزر، ٹشو، کوڑے دان کا ہونا لازم ہے۔
حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مجالس، جلوس اور دیگر سرگرمیوں کے دوران شرکا کے پاس ہر وقت سینیٹائزر ہونا لازم ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق مجالس میں بچوں، بزرگ اور مختلف امراض میں مبتلا افراد کی شمولیت ممنوع ہے۔ یومِ عاشورہ کی مناسبت سے منعقدہ مجالس، ریلیوں میں صفائی ستھرائی کے سخت انتظامات کو یقینی بنائیں۔ ہال میں قالین وغیرہ ہرگز نہ بچھائیں، ضرورت کے تحت ڈس انفیکٹ کی گئی پلاسٹک شیٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں رات کا کرفیو دوبارہ نافذ کرنے پر غور
متحدہ عرب امارات کے حکام نے کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مزید اضافے کی صورت میں رات کا کرفیو دوبارہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان سیف الزہری نے امارات ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ جن علاقوں میں متاثرین کی تعداد زیادہ ہوئی وہاں رات کے وقت دوبارہ کرفیو نافذ کیا جاسکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں جولائی کے بعد پہلی مرتبہ رواں ہفتے کرونا وائرس کے کیسز 400 سے زائد ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق جمعرات کو کرونا وائرس کے شکار دو مریضں بھی دم توڑ گئے ہیں۔
امارات میں مارچ کے وسط میں رات کا کرفیو نافذ کیا گیا تھا جسے 24 جون کو اٹھا لیا گیا تھا۔
امارات میں کرونا وائرس کے شکار 369 افراد ہلاک اور کیسز کی کل تعداد 65 ہزار سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں 24 گھنٹوں میں ٹیسٹس میں صرف 2.2 فی صد افراد میں وائرس کی تشخیص
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیے گئے بڑی تعداد میں ٹیسٹس میں صرف 2.2 فی صد افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 25 ہزار 500 سے زائد ٹیسٹ کیے گئے۔
گزشتہ روز کیے گئے ٹیسٹس میں صرف 586 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔
پاکستان میں اب تک مجموعی طور پر 24 لاکھ 15ہزار کے قریب ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جب کہ ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 92 ہزار ہے۔ ان میں سے 93 فی صد یعنی دو لاکھ 75 ہزار متاثرہ افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث بے روزگاری بڑھے گی: ایشیائی ترقیاتی بینک
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور آئندہ چھ ماہ کے دوران مزید 22 لاکھ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ تاہم حکومتی معاشی ماہرین کو توقع ہے کہ اے ڈی بی کا یہ اندازہ غلط ثابت ہو گا۔
اے ڈی بی کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق آئندہ تین سے چھ ماہ کے دوران خطے میں بے روزگاری میں بڑے پیمانے پر اضافے کا خدشہ ہے اور تین ماہ میں ایک کروڑ، جب کہ چھ ماہ میں ڈیڑھ کروڑ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس آسٹریلیا، انڈونیشیا، جاپان، ملائیشیا اور ویت نام کو پہلے سے خاصا معاشی نقصان پہنچا چکا ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق پاکستان میں بھی نوجوانوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے اور آئندہ تین ماہ میں لگ بھگ 15 لاکھ اور چھ ماہ میں 22 لاکھ سے زیادہ افراد کی نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی معاشی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی اور معیشت کی بحالی کے پیش نظر وہ پر امید ہیں کہ اے ڈی بی کا یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہو گا۔