رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

10:56 24.8.2020

نیوزی لینڈ: آکلینڈ میں نافذ لاک ڈاؤن میں توسیع

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے آکلینڈ میں نافذ لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک کا پہنا لازم قرار دیا ہے۔

وزیرِ اعظم جیسنڈا نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے کیسز میں کمی کے لیے آکلینڈ میں مزید چار روز کے لیے لاک ڈاؤن نافذ رہے گا۔

مقامی سطح پر کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے 11 اگست کو آکلینڈ میں لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔

گزشتہ چند روز کے دوران آکلینڈ میں لگ بھگ 150 کیسز سامنے آئے تھے۔ تاہم اب نئے کیسز کی تعداد ایک ہندسے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

پچاس لاکھ آبادی والے ملک نیوزی لینڈ میں اب تک کرونا وائرس کے 1300 سے زیادہ کیسز اور 22 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

11:17 24.8.2020

پاکستان میں نو اموات، 496 کیسز رپورٹ

پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے کل نو مریض دم توڑ گئے جب کہ 496 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

12:19 24.8.2020

بھارت: کرونا کیسز کی تعداد 31 لاکھ سے تجاوز کر گئی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 61 ہزار 408 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد کیسز کی تعداد 31 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے شکار 836 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ عالمی وبا سے بھارت میں اموات کی کل تعداد 57 ہزار 542 ہو گئی ہے۔

وفاقی وزارتِ صحت کے مطابق بھارت میں صرف 17 دن پہلے ہی کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد نے 20 لاکھ کا ہندسہ عبور کیا تھا جب کہ اتوار تک یہ تعداد 31 لاکھ چھ ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔

بھارت ایشیا کا کرونا سے سب سے زیادہ مثاثرہ ملک ہے جب کہ دنیا میں برازیل اور امریکہ کے بعد اس کا نمبر تیسرا ہے۔

20:44 24.8.2020

خیبر پختونخوا کے سات ہوٹلوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن

فائل فوٹو
فائل فوٹو

خیبر پختونخوا کے مختلف سیاحتی مقامات پر کرونا وائرس کے سدباب کے لیے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سات ہوٹلوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

کرونا وائرس کے ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومت نے کاغان، ناران اور گلیات کے کچھ ہوٹلوں کے ملازمین اور ان میں ٹھیرنے والے سیاحوں میں کرونا کی تشخیص کے بعد خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔

کاغان میں تین روز قبل کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تشخیص کے بعد صوبائی محکمۂ صحت کے حکام نے سات ہوٹلوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر کے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے اور متعلقہ ہوٹلوں میں سیاحوں کے قیام کو بھی محدود کر دیا ہے۔

کاغان ترقیاتی ادارے کے افسران نے بتایا ہے کاغان اور ناران کے تمام ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کرونا سے حفاظت کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کے لیے ادارے کے سربراہ حافظ محمد آصف اور دیگر افسران روزانہ چھاپے مارتے ہیں اور چیکنگ بھی کرتے ہیں۔

کاغان میں واقع ایک ہوٹل کے مینیجر عمر شکیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ تمام ہوٹلوں میں حکومت کے وضع کردہ قواعد و ضوابط پر عمل کیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول ہوٹل کے کمروں میں کم سے کم مہمانوں کو ٹھیرایا جاتا ہے اور ان مہمانوں کے لیے کھانے پینے کی اشیا الگ الگ پلیٹوں اور گلاسوں میں پیش کی جا رہی ہیں۔

ضلع مانسہرہ کے علاقے کاغان، ناران اور شوگران کے علاوہ ضلع ایبٹ آباد کے گلیات کے علاقے بھی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے پسندیدہ مقامات ہیں۔ یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد ہر سال لاکھوں میں ہوتی ہے۔

نتھیاگلی کے حکام کے مطابق چند روز قبل 10 سیاحوں اور 60 سے زیادہ ہوٹل ملازمین اور مالکان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد گلیات ترقیاتی ادارے اور ایبٹ آباد کی ضلعی انتظامیہ نے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

گلیات ترقیاتی ادارے کے ترجمان احسن نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کے بعد پچھلے کئی دنوں سے کرونا وائرس کا کوئی بھی مریض سامنے نہیں آیا ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش نے کاغان، ناران میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تشخیص کے بعد جاری کردہ بیان میں کیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں سیاحتی مقامات پر کسی قسم کی پابندی زیر غور نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے سدباب کے لیے کاغان ترقیاتی ادارے اور ضلعی انتظامیہ نے ہوٹلوں کی انتظامیہ کے نمونے لیے۔ ان کے بقول سات ہوٹلوں اور ریستورانوں کے عملے میں کرونا کی تشخیص ہوئی جن میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

کامران بنگش نے سیاحوں، ہوٹل مالکان اور ملازمین سے کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران بند کیے جانے والے سیاحتی مقامات رواں ماہ ہی کھلے ہیں جس کے بعد ہزاروں لوگ ان مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG