کوئی ملک یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ کرونا وبا ختم ہو گئی: عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ کروناوائرس کی عالمی وبا ختم ہو گئی ہے۔
پیر کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینم نے کہا کہ دنیا کے ممالک کو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے عمل کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ممالک کو معیشت کھولنے یا معمول کی زندگی بحال کرتے وقت وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور مزید ہلاکتوں سے بچنے کی حکمتِ عملی بھی مرتب کرنی چاہیے۔
ٹیڈروس ایڈہینم کا کہنا تھا کہ جن ممالک نے وائرس کو کنٹرول کر لیا ہے وہ اسی لحاظ سے اپنی روزمرہ کے معمولات بحال کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر ٹیڈروس نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے چار بنیادی نکات پر عمل درآمد پر زور دیا۔
اُنہوں نے کہا کہ بڑے اجتماعات جیسے اسٹیڈیمز اور نائٹ کلبز پر پابندی اور ٹیسٹنگ کا بہترین نظام، ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلوں سے وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے۔
مالدیپ میں کیسز میں اضافہ، سیاحوں کے لیے شرائط سخت
مالدیپ میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد حکام نے ملک میں آنے والے سیاحوں کے لیے داخلے کی شرائط میں سختی کر دی ہے۔
مالدیپ کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے ایک درجن سے زائد ریزورٹس میں کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد سیاحوں کے لیے قواعد و ضوابط میں سختی کی گئی ہے۔
مالدیپ سیاحت کے لیے خاصا مشہور ہے۔ کرونا وائرس کے سبب کئی ماہ کی بندشوں کے بعد مالدیپ نے جولائی میں سیاحوں کے لیے لگژری ریزورٹس کھولے تھے۔
سیاحوں پر ملک میں داخلے کے وقت نہ تو کرونا وائرس ٹیسٹ کرا کر آنے کی شرط عائد کی گئی تھی اور نہ ہی وائرس منفی ہونے کا کوئی سرٹیفکیٹ مانگا گیا تھا۔
تاہم حکام کے مطابق اب تک ریزورٹس میں موجود 16 غیر ملکیوں اور 29 عملے کے ارکان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد سیاحوں کے لیے قواعد و ضوابط میں سختی کی گئی ہے۔ نئی ہدایات کے تحت اب ملک میں داخلے کے وقت کرونا وائرس ٹیسٹ کا منفی نتیجہ دکھانا لازمی ہو گا۔
خیال رہے کہ کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد سے مالدیپ میں سیاحوں کی آمد میں واضح کمی آئی ہے۔ عالمی وبا سے قبل ہر ماہ اوسطاً ایک لاکھ 41 ہزار سیاح مالدیپ آتے تھے جب کہ رواں سال جولائی سے اب تک صرف 5200 سیاحوں نے ملک کا دورہ کیا ہے۔
مالدیپ میں گزشتہ ہفتے 1000 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد آٹھ ہزار ہو گئی ہے جب کہ 29 اموات بھی ہوئی ہیں۔
کرونا کی وبا کے دوران خواتین نے وقت کیسے گزارا؟
کرونا وائرس کی عالمی وبا نے لوگوں کا ملنا جلنا محدود کیا ہے۔ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جب مختلف ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کیا گیا تو کچھ خواتین نے وقت گزاری کے لیے مختلف مشاغل ڈھونڈ لیے جو لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد ان کی عادت بن گئے ہیں۔ دیکھیے کچھ ایسی ہی خواتین کی کہانی۔
بھارت میں 78 ہزار نئے کیسز، اموات 66 ہزار سے زیادہ
بھارت میں منگل کو کرونا وائرس کے مزید 78 ہزار 357 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں کرونا کیسز کی کل تعداد 37 لاکھ 69 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں کی فہرست میں بھارت، امریکہ اور برازیل کے بعد تیسرے نمبر پر ہے جہاں اس وبا سے 66 ہزار سے زائد ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔