بھارت: 24 گھنٹوں میں ریکارڈ نئے کیسز، مجموعی تعداد 40 لاکھ سے متجاوز
امریکہ اور برازیل کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 86 ہزار 432 کیسز سامنے آئے ہیں۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے ہفتے کو جاری کردہ کیسز کی تعداد، دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں ایک دن میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد سے زیادہ ہے۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک کی بڑی ریاستوں، جیسے مہاراشٹر اور کرناٹک میں بھی وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارت میں عالمی وبا سے اب تک 69 ہزار 500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں گزشتہ 13 روز کے دوران 10 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔
ملک بھر میں وبا سے 40 لاکھ 23 ہزار افراد متاثر ہوئے۔ وزارتِ صحت کے مطابق ان میں سے 31 لاکھ سے زائد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص کے لیے 27 لاکھ سے زائد ٹیسٹ
پاکستان میں اب تک کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تشخیص کے لیے 27 لاکھ 32 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 ہزار 857 ٹیسٹ کیے گئے۔ جب کہ اس سے قبل جمعے کو 23 ہزار 218، جمعرات کو 21ہزار 744 اور بدھ کو 20 ہزار 480 ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
رواں ہفتے ملک بھر میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیسٹ جون کے وسط میں کیے گیے تھے۔ 20 جون کو ملک بھر میں 31 ہزار 681 ٹیسٹ ہوئے تھے جو ایک دن میں کیے جانے والے ٹیسٹس کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
آسٹریلیا میں لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج، متعدد مظاہرین گرفتار
آسٹریلیا کے شہروں میلبرن اور سڈنی میں کرونا وائرس کے سبب عائد پابندیوں کے خلاف ہفتے کو مظاہرے ہوئے۔ جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
آسٹریلوی نشریاتی ادارے ‘اے بی سی’ کے مطابق ریاست وکٹوریا کی پولیس کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے محکمہ صحت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں 15 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق 150 سے زائد افراد کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔
مظاہرے کے شرکا کہنا تھا کہ کرونا وائرس جیسی کوئی وبا نہیں ہے۔ انہیں لاک ڈاؤن میں پابند رکھنے کے لیے یہ پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ میلبرن میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث پانچ ہفتوں کا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔
ایران میں اسکول کھل گئے
ایران میں کرونا وائرس کے سبب بند کیے گئے اسکول لگ بھگ سات ماہ بعد کھول دیے گئے ہیں۔
اس حوالے سے ایرانی صدر حسن روحانی کا ویڈیو کانفرنس میں کہنا تھا کہ ڈیڑھ کروڑ طلبہ کی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ صحت کا نظام اہم ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق ایران میں اسکول کھولے جانے کے فیصلے پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس اقدام سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایران میں اب تک کرونا وائرس کے 3 لاکھ 82 ہزار سے زائد مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ جب کہ اس عالمی وبا سے 22 ہزار سے زائد ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔