پاکستان میں کرونا وائرس کے پانچ مریض ہلاک
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 330 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں کیسز کی کل تعداد دو لاکھ 99 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا کے شکار مزید پانچ مریض چل بسے ہیں۔ اس طرح عالمی وبا سے پاکستان میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 6350 تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں 28 لاکھ سے زیادہ افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور عالمی وبا سے متاثر ہونے والے دو لاکھ 86 ہزار سے زیادہ مریض اب تک صحت یاب ہو چکے ہیں۔
بھارت میں جولائی کے بعد ریکارڈ اموات
بھارت میں کرونا وائرس کے شکار 1133 مریض ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک ماہ سے زیادہ مدت کے دوران ہلاکتوں کی یہ ریکارڈ تعداد ہے۔
بھارت کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتیں جولائی سے اب تک ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
بھارت میں حالیہ اموات کے بعد عالمی وبا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 72 ہزار 775 ہو گئی ہے۔
بھارت کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جہاں اب تک 42 لاکھ سے زیادہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔
پاکستان میں متاثرہ افراد کی تعداد تین لاکھ کے قریب پہنچ گئی
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تین لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے مزید 426 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 99 ہزار 659 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں وائرس سے سب سے زیادہ سندھ میں لوگ متاثرہ ہوئے جہاں ایک لاکھ 31 ہزار کے قریب کیسز سامنے آئے۔
سندھ کے بعد کیسز کی زیادہ تعداد، آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سامنے آئی ہے جہاں 97 ہزار سے زائد افراد وبا سے متاثر ہوئے۔
خیبر پختونخوا میں 37 ہزار 700 کیسز، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 15ہزار 780، بلوچستان میں 13 ہزار، گلگت بلتستان میں تین ہزار اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو ہزار 340 کیسز کی تصدیق کی گئی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں متاثرہ افراد کی 93 فی صد تعداد صحت یاب ہو چکی ہے۔
طلبہ پر انحصار کرنے والے کاروبار تعلیمی ادارے کھلنے کے منتظر
امریکہ کے بہت سے شہروں کی معیشت کا دار و مدار وہاں قائم کالج یا یونیورسٹیوں پر ہے۔ کرونا کے باعث تعلیمی ادارے بند ہونے سے چھوٹے دکان داروں اور کاروباری اداروں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ ایسے کاروباری افراد اور اداروں کی خواہش ہے کہ نئے تعلیمی سال میں کیمپس کھلیں اور طلبہ واپس آئیں تاکہ ان کا کام چلے۔