امریکہ میں مزید 434 اموات، مجموعی ہلاکتیں ایک لاکھ 89 ہزار سے متجاوز
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں منگل کو کرونا وائرس سے مزید 434 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 89 ہزار 642 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب منگل کو مزید 26 ہزار افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔
خیال رہے کہ امریکہ وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اب تک 63 لاکھ 26 ہزار افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
'کرونا ویکسین کی تیاری میں جلد بازی سیاسی معاملہ ہے'
نیویارک میں کرونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سہیل چیمہ کہتے ہیں کہ کرونا ویکسین کی تیاری میں جلد بازی طبی نہیں بلکہ سیاسی وجوہات کی بنا پر کی جا رہی ہے۔ یہ بات میڈیکل کمیونٹی کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ دیکھیے ڈاکٹر سہیل چیمہ سے وائس آف امریکہ کی فائزہ بخاری کی گفتگو
برطانیہ میں وائرس کی ویکسین کی آزمائش عارضی طور پر معطل
برطانیہ میں کرونا وائرس ویکسین کی آزمائش عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے جس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ جن رضاکاروں پر ویکسین کی آزمائش کی جا رہی تھی ان میں سے ایک شخص بیمار ہو گیا ہے۔
'آکسفورڈ یونیورسٹی' اور ایک دوا ساز کمپنی 'آسٹرا زینیکا' مشترکہ طور پر کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کی کوشش کر رہے ہیں۔
آسٹرا زینیکا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آکسفورڈ کرونا وائرس ویکسین کے گوبل کنڑولڈ ٹرائلز جاری ہیں جس میں رضاکارانہ طور وقفہ لیا گیا ہے تاکہ ٹرائل میں سامنے آنے والی بیماری کی تحقیقات کی جا سکیں اور ویکسین کی آزمائش کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
کرونا وائرس سے صحتِ عامہ کا نظام متاثر، لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں: اقوامِ متحدہ
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں صحتِ عامہ کی سہولیات کے متاثر ہونے سے کم عمر بچوں کی اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ 30 برس میں بچوں کی صحت کے سلسلے میں بہت کام کیا گیا ہے اور وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں یا نمونیا کی وجہ سے ہونے والی اموات میں کمی ہوئی ہے۔
یونیسیف، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق گزشتہ سال پانچ برس سے کم عمر بچوں کی سب سے کم اموات دیکھنے میں آئیں۔
گزشتہ برس 52 لاکھ بچوں کی اموات مختلف بیماریوں سے ہوئیں۔ جب کہ 1990 میں یہ تعداد ایک کروڑ 25 لاکھ کے قریب تھی۔
اقوامِ متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی وبا کی وجہ سے بچوں اور ان کی ماؤں کے لیے جاری ان طبی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔