رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:06 23.9.2020

وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں پارک میں پرچم لگائے گئے

14:06 23.9.2020

خدشات درست ثابت، امریکہ میں وائرس سے ہلاکتیں 2 لاکھ سے متجاوز

امریکہ میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

عالمی وبا کے امریکہ میں حملے کے بعد صحتِ عامہ کے امور کے نگران ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے ملک میں دو لاکھ اموات کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔

عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں امریکہ میں اموات کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اپریل میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا اندازہ تھا کہ امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سے دو لاکھ ہو سکتی ہے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں 70 ہزار سے ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں دو لاکھ 814 افراد ہلاک اور اب تک 68 لاکھ سے زیادہ افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

مزید جانیے

14:09 23.9.2020

چین کی ویکسین کے 'کلینکل ٹرائلز' پاکستان میں شروع

پاکستان کے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین 'کین سینو' کے تیسرے مرحلے کی طبی آزمائش شروع کر دی گئی ہے۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین چین کی ایک کمپنی نے تیار کی ہے۔ آزمائشی مرحلے میں 8 سے 10 ہزار پاکستانی شریک ہوں گے۔ جب کہ ٹیسٹ کے ابتدائی نتائج 4 سے 6 ماہ میں متوقع ہیں۔

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے توقع ظاہر کی ہے کہ ویکسین کے کلینکل ٹرائلز سے ملک میں دیگر بیماروں کے لیے ویکسین تیار کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہو گا۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ ویکسین کے ٹرائلز میں 7 ممالک کے 40 ہزار افراد رضاکارانہ طور پر شریک ہو رہے ہیں۔

مزید جانیے

14:55 24.9.2020

یورپی ملکوں میں کرونا وائرس کی دوسری لہر، پابندیاں پھر سے لگنے لگیں

فائل فوٹو
فائل فوٹو

یورپی ملکوں میں کرونا وائرس کی شدت کم ہو گئی تھی لیکن اب برطانیہ، فرانس اور اسپین میں کیسز دوبارہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

اسپین میں کرونا وائرس نے رواں سال فروری میں اپنا زور دکھایا تھا لیکن پھر مئی میں یومیہ کیسز کی تعداد کم ہو کر چند سو رہ گئی تھی۔

جولائی کے آخری عشرے میں اسپین میں وائرس دوبارہ پھیلنا شروع ہوا اور یومیہ کیسز اب پھر سے بڑھ کر ہزاروں میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسپین میں 11 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب فرانس میں بھی یہی صورتِ حال ہے جہاں یومیہ کیسز کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ فرانس میں بدھ کو 13 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

ادھر برطانیہ میں 'کووڈ 19' کے کیسز میں اضافے کے بعد حکومت نے دوبارہ مختلف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانیہ میں ہر ہفتے سامنے آنے والے کیسز کی تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہو رہی ہے۔

بدھ کو برطانیہ میں چھ ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ میں کرونا وائرس اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو اکتوبر میں یومیہ کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ یورپ کا وہ ملک ہے جہاں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کرونا کیس میں اضافے کے پیشِ نظر برطانوی حکومت نے کچھ پابندیاں دوبارہ عائد کر دی ہیں۔ شراب خانوں اور ریستورانوں کو رات 10 بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بارز اور ریستورانوں کے ملازمین، ٹیکسی ڈرائیوروں اور دکان داروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ فیس ماسک پہنے رہیں۔ لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر ان کے لیے گھر سے کام کرنا ممکن ہو تو اسے ترجیح دیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG