پاکستان میں 799 نئے کیسز، پانچ اموات
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے 799 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مزید پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی کل تعداد چھ ہزار 437 ہو گئی ہے۔
ملک میں کرونا کے کیسز کی مجموعی تعداد تین لاکھ آٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ ایکٹو کیسز سات ہزار سے کچھ زیادہ ہیں۔
کرونا بحران: تارکینِ وطن ملازمین کے لیے مسائل بھی اور مواقع بھی
تارکینِ وطن محنت کش اور ماہر افراد اپنے میزبان اور آبائی ملکوں کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار کرتے ہیں اور گزشتہ عشروں میں ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم بھی کیا گیا ہے۔
رواں سال کے شروع سے پھوٹنے والی کرونا کی عالمی وبا نے جہاں لوگوں کی بہتر مستقبل کی جستجو کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے عمل کو روک دیا وہاں بہت سے تارکینِ وطن کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے اس ہفتے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی وبا کے باعث دنیا کے کئی ممالک میں روزگار کے مواقع کم ہونے کا سب سے گہرا اثر تارکینِ وطن ملازمین پر ہوا ہے۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے سینیئر اہلکار گیری رین ہارٹ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ غیر رسمی معاشی شعبوں میں کام کرتے ہیں جہاں بیمار ہونے یا بے روزگار ہونے کی صورت میں اُنہیں باقاعدہ ملازمین کی طرز کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسا خاص طور پر ترقی پزیر ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے کیونکہ وہاں بہت سے محنت کش سال کے مخصوص حصوں میں موسمی کارکنان کے طور پر کام کرتے ہیں۔
کرونا بحران میں بہت سے تارکینِ وطن اس موزی مرض کا شکار ہوئے اور بہت سے باقی لوگوں کو ان کے آبائی وطن واپس بھیج دیا گیا۔
برطانیہ میں کرونا وائرس کی نشان دہی کے لیے ایپلی کیشن کا اجرا
برطانیہ میں کرونا وائرس کی ایک ایسی ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے جس سے رابطے میں آنے والے افراد، پر خطر مقامات اور جگہوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، جہاں لوگوں کو جانے کی اجازت دی گئی ہو۔
اس ایپلی کیشن کو جمعرات کے روز انگلینڈ اور ویلز میں لانچ کیا گیا ہے۔
نیشنل ہیلتھ سروسز کی کرونا وائرس کی ایپلی کیشن ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب برطانیہ کو وبا کی دوسری لہر کا سامنا ہے اور وہاں ان دنوں روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد اس کے قریب پہنچ رہی ہے جتنی پہلی لہر کے عروج کے دنوں میں تھی۔
حکومت نے کرونا وائرس کی ایپلی کیشن مئی میں متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر ابتدائی ٹرائل میں مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں یہ ایپلی کیشن تیار کرنے والوںں نے مقامی ماڈلز ترک کر کے گوگل اور ایپل کے ماڈلز کے استعمال سے اسے مکمل کیا۔
ایپلی کیشن کی ریلیز میں تاخیر پر حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ اسمارٹ فونز کے ذریعے کرونا کا مقابلہ کرنا اہم نہیں ہے۔
تاہم اب برطانیہ کے امورِ صحت کے سیکرٹری میٹ ہنکاک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جیسے جیسے روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہر ذریعے کو وائرس سے لڑنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
امریکہ میں کرونا کیسز کی تعداد 70 لاکھ تک پہنچ گئی
دنیا کا سب سے زیادہ کرونا وائرس سے متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں کیسز تعداد 70 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
کیسز کے اعتبار سے ریاست کیلی فورنیا سب سے آگے ہے جہاں اب تک آٹھ لاکھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جس کے بعد ٹیکساس، فلوریڈا اور نیویارک میں زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
امریکہ میں گزشتہ ہفتے کیسز کی تعداد میں اچانک اضافہ نوٹ کیا گیا جو مسلسل آٹھ ہفتوں میں کیسز کی کمی کے بعد اچانک اضافہ تھا۔
ماہرینِ صحت کے مطابق کیسز کا حالیہ اضافہ اسکول اور یونیورسٹی کھلنے کے علاوہ لیبر ڈے کی چھٹیوں کے موقع پر مختلف تقاریب کے انعقاد کی وجہ سے ہے۔
امریکہ میں عالمی وبا سے اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں اور روزانہ تقریباً 700 اموات ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں عالمی وبا سے ہونے والی اموات کی یہ تعداد دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔