آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا میں کیسز میں کمی پر پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ
آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی آنے کے بعد حکام نے پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق وکٹوریا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 12 کیسز رپورٹ ہوئے۔
اسٹیٹ پریمیئر ڈینئل اینڈریوز کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی سے متعلق اعلان اتوار کو کریں گے۔
ریاست وکٹوریا کے شہر میلبرن میں دو ماہ سے سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے۔
حکام کی طرف سے لگ بھگ 50 لاکھ لوگوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جب کہ رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
آسٹریلیا میں کرونا وائرس کے باعث 870 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں سے 90 فی صد ریاست وکٹوریا میں رپورٹ کی گئی ہیں۔
برازیل: ریو ڈی جنیرو کا سالانہ میلہ 100 سال میں پہلی بار ملتوی کرنے کا اعلان
جنوبی امریکہ کے ملک برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہونے والا سالانہ میلہ کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ایک صدی میں پہلی بار باقاعدگی سے منعقد ہونے والے سالانہ میلے کو ملتوی کیا گیا ہے۔
‘ریو لیگ آف سامبا اسکول’ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث یہ ممکن نہیں ہے کہ آئندہ برس فروری میں میلہ منعقد کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ برازیل میں 46 لاکھ سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ جب کہ اس وبا سے لگ بھگ ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس سے 20 لاکھ اموات ہو سکتی ہیں: عالمی ادارۂ صحت
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ جب تک کرونا وائرس کی ویکسین وسیع پیمانے پر دستیاب نہیں ہو جاتی۔ اس وقت تک وبا سے ہلاکتوں کی تعداد 20 لاکھ تک ہو نے کا اندیشہ ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے ہنگامی امداد کے پروگرام کے سربراہ مائیک ریان کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا نہ صرف اس حد تک تصور کیا جا سکتا ہے، بلکہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسا ہونے کا اندیشہ ہے۔
عالمی وبا سے اب تک لگ بھگ 10 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مائیک ریان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے نوجوانوں کو موردِ الزام نہ ٹھیرایا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ چار دیواری کے اندر ہونے والی تقاریب کے سبب ہو رہا ہے۔
فِن لینڈ کے ہوائی اڈے پر کرونا وائرس کی شناخت کے لیے کتے تعینات
کرونا وائرس کے ٹیسٹ سے خوف کھانے والوں کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اب اس موذی وبا کا پتا چلانے کے لیے ایک بہت ہی سادہ اور ارزاں طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے جس میں ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوتی اور نتیجہ بھی چند سیکنڈز میں سامنے آتا ہے۔ یہ نیا طریقہ فن لینڈ کے ہلسنکی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعارف کرایا گیا ہے۔
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کتے سونگھ کر ایسے افراد کا کھوج لگا سکتے ہیں جنہیں کرونا وائرس لگ چکا ہو۔ چاہے اس کی علامات ظاہر ہوئی ہوں یا ابھی اپنی ابتدائی اسٹیج میں ہوں۔
کتے میں سونگھنے کی صلاحیت غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتی ہے۔ اس مخصوص صلاحیت کی وجہ سے منشیات کا کھوج لگانے، بارودی مواد تلاش کرنے، جرائم کی تحقیقات اور مجرموں کی شناخت کے لیے ان کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔
کچھ عرصہ قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کتے محض سونگھ کر کینسر کا قبل از وقت پتا چلا لیتے ہیں۔ کینسر کی بر وقت تشخیص ہو جانے سے مریض کی زندگی بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اور اب ماہرین نے کینسر کے بعد کرونا وائرس کے مریضوں کا پتا چلانے کے لیے بھی کتے کی اس صلاحیت سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔