امریکی ریاست نیو یارک میں ایک ہزار سے زائد نئے کیسز
امریکی ریاست نیو یارک میں پانچ جون کے بعد ایک ہی روز میں کرونا کے سب سے زیادہ ایک ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ کاروبار اور تعلیمی اداروں کا کھلنا ہے۔
ریاست نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو کا ہفتے کو ایک بیان میں کہنا تھا کہ جمعے کو ریاست میں 99 ہزار سے زائد کرونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے ایک فی صد ٹیسٹ مثبت آئے۔
جولائی سے لے کر ستمبر تک ریاست میں اوسطً روزانہ 660 کیسز رپورٹ ہو رہے تھے۔ لیکن گزشتہ جمعے کو اس سے قبل سات روز کے دوران یہ اوسط بڑھ کر 817 ہو گئی تھی۔
بھارت میں مزید 88 ہزار سے زائد نئے کیسز
امریکہ کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 88 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ بھارت میں وائرس کے باعث 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار سے اموات بھی ہوئی ہیں۔
وزارت صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں اب تک اس وبا سے ہلاکتوں کی تعداد 94 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
بھارت میں اب تک اس عالمی وبا سے 60 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق بھارت میں اس وبا سے صحت یاب ہونے والوں کی اوسط 82 فی صد ہے۔
فرانس: کرونا وائرس کی دوسری لہر کی زد میں
فرانس میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کی دوسری لہر توقعات سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر دوسری لہر پر قابو نہ پایا گیا تو نظام صحت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
فرانس میں ڈاکٹرز کی ایک تنظیم کے سربراہ پیٹرک بوت نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر توقعات سے بھی زیادہ تیزی سے آرہی ہے۔
پیٹرک کا ایک انٹرویو کے دوران مزید کہنا تھا کہ وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر من و عن عمل نہیں ہو رہا۔
وزارت صحت کے مطابق ہفتے کو کرونا وائرس کے مزید 14 ہزار 414 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
آسٹریلیا: ریاست وکٹوریا میں پابندیوں میں نرمی کا اعلان
آسٹریلیا میں کرونا وائرس کا گڑھ سمجھی جانی والی ریاست وکٹوریا میں یومیہ کیسوں کی تعداد میں کمی کے بعد پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ پریمیئر ڈینئل اینڈریوز نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کردہ پابندیاں ختم کی جارہی ہیں جن میں رات کے اوقات میں کرفیو بھی شامل تھا۔
صحافیوں سے گفتگو میں اینڈریوز کا کہنا تھا کہ انہوں نے توقعات سے پہلے وبا پر قابو پا لیا ہے تاہم ان کے بقول اس کا مطلب یہ نہیں کہ وبا ختم ہو گئی ہے۔
حکومتی اعلان کے بعد پیر سے ایک لاکھ 27 ہزار ورکرز اپنے روزگار پر واپس جاسکیں گے۔
دوسری طرف آسٹریلیا کی سب سے گنجان آباد ریاست ساؤتھ ویلز میں تین ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد اتوار کو کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
آسٹریلیا میں اس وبا سے 27 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 872 اموات ہوئی ہیں۔