سرد موسم اور محدود تماشائیوں کی موجودگی میں فرینچ اوپن کا آغاز
ٹینس کی دنیا میں صف اول کے ٹورنامنٹ میں شمار کیا جانے والا فرینچ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ چند تماشائیوں کی موجودگی میں شروع ہو گیا۔
اتوار کو کھیلے جانے والے میچ میں الیون سیڈ ڈیوڈ گوفن کا مقابلہ اٹلی کے جینک سائنر کے ساتھ ہوا، اس دوران چند تماشائی ہی اسٹینڈز میں موجود تھے۔
فرینچ اوپن ٹورنامنٹ کے دوران ٹکٹ کے خواہش مندوں کی لمبی قطاریں اور ہلہ گلہ اس میگا ایونٹ کی رونقیں دوبالا کر دیتا تھا، لیکن رواں سال کرونا وبا کی وجہ سے یہ تمام رونقیں ماند پڑ گئیں۔
فرینچ اوپن کا انعقاد رواں سال مئی جون میں ہونا تھا، لیکن کرونا وبا کی وجہ سے اسے ملتوی کر کے 27 ستمبر سے 11 اکتوبر کے درمیان شیڈول کیا گیا۔ تاہم موسم خزاں کی آمد کے ساتھ ہی فرانس سمیت یورپ کے کئی ملکوں میں موسم سرد ہو رہا ہے۔
یونان: پناہ گزینوں کے کیمپ میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت
یونان میں کرونا وائرس سے پناہ گزین کیمپ میں مقیم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ 68 سالہ افغانی پناہ گزین دو بچوں کا باپ تھا اور دارالحکومت ایتھینز کے شمال میں مالاکاسا مہاجر کیمپ میں رہائش پذیر تھا۔
کووڈ کی تشخیص کے بعد متاثرہ شخص ایتھینز کے اسپتال میں زیرِ علاج تھا۔
یونان میں رواں برس فروری میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ تب سے اب تک متاثرہ افراد کی تعداد 17 ہزار 444 ہو گئی ہے۔
بھارت میں کرونا کیسز کی تعداد 60 لاکھ سے بڑھ گئی
بھارت میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 82 ہزار 170 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ کرونا کے شکار ایک ہزار 39 مریض دم توڑ گئے ہیں۔
بھارت میں کرونا سے ہلاکتوں کی کُل تعداد 95 ہزار 542 جا پہنچی ہے جب کہ 60 لاکھ 74 ہزار 702 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
کرونا سے ہلاکتیں 10 لاکھ تک پہنچنے پر عالمی ادارۂ صحت کا اظہارِ افسوس
عالمی ادارۂ صحت نے کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
عالمی ادارے کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے منگل کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچنا بہت دکھ کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے بہت سے مریضوں کی تنہائی میں موت ہوئی، ان کے پیارے انہیں آخری مرتبہ مل بھی نہیں سکے۔
ڈبلیو ایچ او کی ترجمان نے کہا کہ "بہت سارے لوگوں نے بہت سارے لوگوں کو کھو دیا اور انہیں آخری مرتبہ اپنے پیاروں سے ملنے اور خدا حافظ کہنے کا موقع بھی نہ ملا۔ کئی لوگوں کی موت تنہائی میں ہوئی۔"
مارگریٹ ہیرس نے کہا کہ کرونا وائرس کے بارے میں ایک چیز مثبت ہے، وہ یہ کہ اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔