جنوبی کوریا میں مظاہرے روکنے کے لیے پولیس سرگرم
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سول میں 'نیشنل فاؤنڈیشن ڈے' کے موقع پر ہونے والی سیاسی ریلیوں کو روکنے کے لیے پولیس نے بسوں کے ذریعے اہم مقامات کے علاوہ سینٹرل سیول اسکوائر کو بھی بند کر دیا ہے۔
جنوبی کوریا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب رہنے والے چند ممالک میں سے ایک ہے۔ تاہم ایک گرجا گھر میں ہونے والی مذہبی تقریب اور اگست میں ہونے والی حکومت مخالف ریلی کے بعد 18 سو سے زائد نئے کرونا کیسز سامنے آئے تھے۔
حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات پر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔
رواں سال اگست میں حکومت مخالف ریلی نکالنے والے گروہ کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات آزادی اظہار پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔
وبائی امراض سے متعلق حکومتی ایجنسی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جمعے کو کرونا وائرس کے مزید 75 کیس سامنے آئے ہیں۔
جنوبی کوریا میں اب تک 24 ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔ جب کہ اس وبا سے 420 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ایک دن میں کرونا کے ہزاروں ٹیسٹ کرنے والا روبوٹ
تائیوان کی ایک بائیو ٹیک کمپنی نے ایسا روبوٹ بنایا ہے جو ایک ہی دن میں کرونا وائرس کے تقریباً دو ہزار ٹیسٹ کر سکتا ہے۔ یہ روبوٹ تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کو کھولنے کا عمل تیز اور محفوظ بنانے میں کیسے مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
کیا کرونا سے متاثرہ افراد دوسری بار بھی وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟
اگر آپ ایک بار کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں تو یہ امکان موجود ہے یہ وبا دوبارہ بھی آپ کو متاثر کر سکتی ہے۔ لیکن کب؟ یہ معلوم نہیں ہے۔
ہانگ کانگ میں طبی تحقیق کے بعد ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ شواہد ملے ہیں کہ ایک شخص جسے پہلے بھی کرونا وائرس ہو چکا تھا۔ کئی ماہ کے بعد اس میں دوبارہ عالمی وبا کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں۔
یہ تحقیق ابھی سائنسی اور طبی جرائد میں شائع نہیں ہوئی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص پر جب پہلی بار کرونا وائرس کا حملہ ہوا تھا، تب اس کی علامات کم سطح کی تھیں اور اب دوسری بار وائرس میں مبتلا ہونے کے باوجود وبا کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔ جب کہ اس کا ٹیسٹ پازیٹو ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ جب پہلی بار یہ شخص وائرس سے متاثر ہوا تھا۔ تو اس کے جسم میں وبا کے خلاف مدافعت پیدا ہو گئی تھی جس نے اسے وائرس کے دوسرے حملے میں کچھ تحفظ فراہم کیا ہے۔
اس شخص میں، جس کا نام پوشیدہ رکھا گیا ہے، دوسری بار کرونا وائرس کا انکشاف ہانگ کانگ کے ایئر پورٹ پر اسکرینگ اور ٹیسٹگ کے دوران ہوا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب مریض کے جینیاتی ٹیسٹ لیے گئے تو معلوم ہوا کہ دوسری بار اس پر کرونا وائرس کی دوسری قسم کی نسل کا حملہ ہوا تھا۔
پاکستان میں سردیوں میں وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موسم سرما میں وائرس کی دوسری لہر آ سکتی ہے، لہذٰا عوام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل جاری رکھیں گے۔
اتوار کو اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کی نسبت پاکستان کرونا وبا کے سنگین اثرات سے محفوظ رہا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوامی مقامات پر ماسک پہنیں۔
ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان نے تمام دفاتر اور تعلیمی اداروں سے پر زور دیا کہ وہ یقینی بنائیں کہ لوگ ماسک پہن رہے ہیں۔