نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم کا ایک بار پھر کرونا کو شکست دینے کا اعلان
نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اعلان کیا ہے کہ اُن کے ملک نے کرونا وائرس کو دوسری مرتبہ شکست دے دی ہے۔
وزیرِ اعظم جیسنڈا نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے وائرس کو دوبارہ پھیلنے سے روکنے کی لڑائی میں وبا کو شکست دے دی ہے جس کے بعد ملک کے دوسرے بڑے شہر آکلینڈ سے پابندیاں اٹھا لی ہیں۔
وزیرِ اعظم جیسنڈا نے شہریوں کو پابندیوں پر عمل درآمد کرنے پر مبارک باد بھی دی۔
وزیرِ اعظم جیسنڈا نے مئی میں وائرس کے خلاف پہلی مرتبہ فتح کا اعلان اُس وقت کیا تھا جب ملک میں 102 روز تک مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔
لیکن اگست میں کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے تو 15 لاکھ آبادی والے شہر آکلینڈ میں دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔
کرونا کیسز سامنے آنے پر اسلام آباد میں اسکول سیل
کرونا بحران میں قہقہے صحت کے نسخے سے کم نہیں: ماہرین
عام حالات میں پریشانیوں سے نمٹنے کے دوران ہنسی مزاح کا اپنانا ایک مثبت رویہ تصور کیا جاتا ہے لیکن کرونا کے طول پکڑتے ہوئے بحران میں قہقہے کسی طبی نسخے سے کم نہیں۔
اگرچہ کرونا کے خلاف کوئی مؤثر دوا تو دریافت نہیں ہوئی لیکن ڈاکٹروں، ماہرینِ صحت اور میڈیکل اسٹاف کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ذہنی دباؤ اور تناؤ کی کیفیت سے نکلنے میں قہقہے لگانا بہت اہم ہے۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ سے منسلک ماہرِ امراض قلب ڈاکٹر مائیکل ملر کہتے ہیں کہ موجودہ پریشان کن حالات میں ہنسی مزاح نہ صرف تلخ حقیقت سے انحراف کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ صحت کی بہتری کا ایک منصوبہ بھی ہیں۔
انہوں نے 'نیویارک ٹائمز' اخبار کو بتایا کہ بڑھتی ہوئی ذہنی کشیدگی دل کے دورے جیسی صورتِ حال پیدا کرتی ہے جب کہ حس مزاح کا ہونا تناؤ اور ذہنی دباؤ کی کیفیت کو کم کرنے کا بہتریں ذریعہ ہے۔
ان کے بقول ہنسی مزاح تناؤ کی کیفیت کو کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
طبی سطح پر بیان کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ قہقہے انسانی جسم میں نائیٹرک آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں اور یہ ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے اور خون کو جمنے سے روکتا ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران امریکی خواتین میں زیادہ شراب پینے کا رجحان: رپورٹ
امریکہ میں صحتِ عامہ کے اُمور کے نگران ادارے 'سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول' (سی ڈی سی) نے رواں ماہ جاری کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں کرونا وبا کے دوران خواتین نے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ شراب پی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گو کہ رواں سال شراب نوشی کے اثرات سے زیادہ تعداد میں مرد ہلاک ہوئے، لیکن اس کے باعث خواتین کی ہلاکتوں کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو گھرداری اور بچوں کی دیکھ بھال کے علاوہ دفتر کا کام بھی گھر سے ہی کرنا پڑا۔
تحقیق میں میں شریک اسکالر لنڈسے روڈریگوز کا امریکی نشریاتی ادارے ‘این بی سی’ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کے گھروں میں موجود ہونے کی وجہ سے خواتین نے الکوحل کا استعمال زیادہ کیا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ امریکی خواتین میں الکوحل کا استعمال خاص طور پر اس وقت بڑھا جب رواں سال مارچ اپریل میں لاک ڈاؤن لگایا گیا۔
حال ہی میڈیکل جریدے 'جاما نیٹ ورک' میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق امریکیوں میں رواں سال گزشتہ سال کے مقابلے میں الکوحل کا استعمال 14 فی صد زیادہ رہا۔ لیکن خواتین نے 41 فی صد زیادہ شراب پی۔