کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کے لیے رہنما اصول جاری
امریکہ کی فوڈ اور ڈرگ انتظامیہ (ایف ڈی اے) نے کرونا وائرس کی ویکسین کے استعمال کی اجازت کے لیے نئے رہنما اصول جاری کیے ہیں جس کے تحت دوا ساز کمپنیوں کی طرف سے آخری مرحلے کی جانچ کے دوران رضاکار کو اس ویکسین کی دوسری اور آخری خوراک دیے جانے کے بعد ان کی کم سے کم دو ماہ تک نگرانی کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ان سخت ہدایات کے باعث اس بات کا امکان کم ہے کہ مجوزہ ویکسین تین نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب سے قبل فراہم ہو سکے گی۔
صدر ٹرمپ نے، جو اس سے قبل یہ اشارہ دے چکے تھے کہ کرونا کی ویکسین الیکشن سے پہلے آ سکتی ہے، فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ کی نئی گائیڈ لائنز کو ویکسین جلد لانے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔
'جراسک ورلڈ: ڈومینین' کی ریلیز بھی ایک سال تاخیر کا شکار
کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث متعدد بڑے فلم ساز اداروں کی فلموں کی ریلیز تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔ ان فلموں کی فہرست میں اب 'جراسک ورلڈ' کے سیکوئل کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
فلم ساز ادارے 'یونیورسل پکچرز' نے اعلان کیا ہے کہ فلم 'جراسک ورلڈ: ڈومینین' جو 11 جون 2021 کو ریلیز ہونی تھی، اب ایک سال کی تاخیر سے 10 جون 2022 کو پیش کی جائے گی۔
ہالی وڈ کی چند بڑی فرنچائزز میں شامل 'جراسک پارک' کی اس نئی فلم کی ریلیز میں تاخیر کرونا وائرس کے باعث ملتوی ہونے والی فلموں میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اب تک بڑے بجٹ کی کئی فلموں کی ریلیز مؤخر کی جاچکی ہے۔
کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے مزید پابندیاں زیرِ غور ہیں: برطانوی وزیر
برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کی حکومت شمالی انگلینڈ کے کچھ حصوں میں اضافی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اس حوالےسے وزیر ہاؤسنگ رابرٹ جینرک کا کہنا ہے کہ اضافی پابندیاں لگائے جانے کا سبب برطانیہ میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشات ہیں جس سے کرونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
برطانیہ میں کرونا وائرس کے یومیہ تقریباََ 14 ہزار نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
رابرٹ جینرک کے مطابق شمال مغرب، شمال مشرق اور ناٹنگھم جیسے دوسرے علاقوں میں نمایاں طور پر کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ کرونا سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کیا اقدامات کیے جائیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے متعدد اقدامات زیرِ غور ہیں۔
آسٹریلیا: نیو ساؤتھ ویلز میں مزید کیسز سامنے آنے پر نرمی کے امکانات ختم
آسٹریلیا کی گنجان آباد ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں ایک ماہ کے دوران جمعرات کو کرونا وائرس کے سب سے زیادہ یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو دو ستمبر کے بعد سے ایک دن میں سامنے آنے والے کیسز میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ دو ستمبر کو کرونا وائرس کے 17 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
نئے کیسز کی وجہ سے اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ اب شاید پابندیوں میں نرمی نہ کی جائے۔
12 نئے کیسز میں سے چار کیسز بیرون ملک سے آسٹریلیا آنے والے افراد سے منتقل ہوئے۔ یہ تمام افراد قرنطینہ میں ہیں۔
دوسری جانب ریاست وکٹوریہ میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
آسٹریلیا میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 27 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ جب کہ اب تک 900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ تعداد بیشتر ترقی یافتہ ممالک سے بہت کم ہے۔