رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:03 16.10.2020

امریکہ میں ایک بار پھر کیسز میں اضافہ ہونے لگا: رپورٹ

امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے ۔

امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ امریکہ میں آٹھ دن ایسے گزرے ہیں جب ملک بھر میں یومیہ کیسز 50 ہزار سے زائد رپورٹ ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں 40 ریاستوں میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد اس سے قبل 14 دن کے کیسز سے زیادہ رہی ہے۔

واضح رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کا جائزہ لے کر رپورٹ ترتیب دی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر گزشتہ ایک ہفتے کے اوسط کیسز کی تعداد 14 دن کے کیسز کی اوسط سے زیادہ ہے تو واضح ہو رہا ہے کہ امریکہ میں کیسز بڑھ رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں امریکہ میں اسپتالوں میں بھی مریضوں کی تعداد بڑھی ہے۔

البتہ وبا سے اموات کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اعداد و شمار سے واضح ہو رہا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں اوسطاََ 700 اموات ہوئی ہیں جب کہ دو ماہ قبل یہ شرح 1000 تک تھی۔

واضح رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے دو لاکھ 17 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

16:08 16.10.2020

ٹرمپ کا کرونا کے خلاف اپنائی گئی حکمتِ عملی کا دفاع

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کرونا سے نمٹنے کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جب کہ صدر نے اپنی حکمتِ عملی کا بھرپور دفاع کیا ہے۔

دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان جمعرات کو دوسرا مباحثہ شیڈول تھا جسے صدر ٹرمپ کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ تاہم دونوں امیدوار جمعرات کو دو مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنے اپنے ووٹرز سے مخاطب ہوئے۔

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ریاست فلاڈیلفیا کے ووٹرز کے ساتھ ٹاؤن ہال میں شرکت کی جب کہ صدر ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں ووٹرز سے خطاب کیا۔ دونوں امیدواروں کی یہ انتخابی مصروفیات ٹی وی پر براہِ راست نشر بھی کی گئیں۔

اپنی گفتگو میں جو بائیڈن نے ری پبلکن صدارتی امیدوار پر کرونا وائرس کے خطرناک ہونے کی معلومات چھپانے کا الزام عائد کیا جو اب تک تقریباً 80 لاکھ امریکیوں کو متاثر کر چکا ہے۔

مزید جانیے

16:09 16.10.2020

'نوجوان اور صحت مند افراد کو ویکسین کے لیے 2022 تک انتظار کرنا ہوگا'

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ نوجوانوں اور صحت مند افراد کو کرونا کی ویکسین آنے کے بعد بھی ایک سال تک اس کی دستیابی کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

بعض ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ نوجوان اور صحت مند افراد کو ویکسین کے لیے انتظار کرنا ہو گا۔

عالمی ادارۂ صحت کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامی ناتھ کا کہنا ہے کہ لوگ سوچ رہے کہ یکم جنوری یا یکم اپریل کو ویکسین دستیاب ہو گی اور سب کچھ پہلے کی طرح نارمل ہو جائے گا۔ یہ کام اس طرح بالکل نہیں ہوتا۔

آن لائن سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی بہت سی ہدایات سامنے آنی ہیں۔ لیکن ممکنہ طور پر ایک صحت مند اور نوجوان فرد کو ویکسین کے لیے 2022 تک انتظار کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ ماہرین پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ نوجوان بھی کرونا وائرس کے سبب بیمار ہو سکتے ہیں یا ان کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ یا ان سے بیماری پھیل بھی سکتی ہے۔ البتہ یہ شواہد موجود ہیں کہ نوجوان یا صحت مند افراد کے مقابلے میں بڑی عمر یا پیچیدہ بیماریوں کے شکار افراد کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

16:16 16.10.2020

امریکہ: بے روزگاری میں اضافہ، ایک ہفتے میں بے روزگاری الاؤنس کی نو لاکھ درخواستیں

امریکہ میں گزشتہ ہفتے بے روزگاری الاؤنس کے لیے آٹھ لاکھ 98 ہزار امریکیوں نے درخواستیں دی ہیں جو کہ دو ماہ کے عرصے میں تاریخی اضافہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی وبا کے دنوں میں ملازمتوں سے فارغ کیے جانا معیشت کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

امریکہ کے لیبر ڈپارٹمنٹ کی جاری کردہ رپورٹ دیگر حالیہ ڈیٹا سے مطابقت رکھتی ہے جن میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ روزگار کی فراہمی سست روی کا شکار ہے۔

اس سال موسمِ بہار میں عالمی وبا کی وجہ سے کل 22 ملین یعنی دو کروڑ 20لاکھ ملازمتیں ختم ہو گئی تھیں، جن میں سے ایک کروڑ 70 لاکھ ملازمتیں ابھی تک بحال نہیں ہو سکیں ہیں۔

گزشتہ ماہ سے کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد میں ملک بھر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے امریکی اب باہر کھانا کھانے، شاپنگ اور دیگر تجارتی سرگرمیوں سے اجتناب برت رہے ہیں۔

ملک بھر میں بے روزگاری مراعات کے لئے درخواستوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب اسٹمولس پیکج یعنی کاروباروں میں جان ڈالنے کے منصوبے کے تحت امدادی رقوم کی فراہمی پر مذاکرات، ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی اور وزیرخزانہ سٹیو منوچن کے درمیان تعطل کا شکار ہیں۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG