ٹرمپ کا کرونا کے خلاف اپنائی گئی حکمتِ عملی کا دفاع
ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کرونا سے نمٹنے کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جب کہ صدر نے اپنی حکمتِ عملی کا بھرپور دفاع کیا ہے۔
دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان جمعرات کو دوسرا مباحثہ شیڈول تھا جسے صدر ٹرمپ کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ تاہم دونوں امیدوار جمعرات کو دو مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنے اپنے ووٹرز سے مخاطب ہوئے۔
صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ریاست فلاڈیلفیا کے ووٹرز کے ساتھ ٹاؤن ہال میں شرکت کی جب کہ صدر ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں ووٹرز سے خطاب کیا۔ دونوں امیدواروں کی یہ انتخابی مصروفیات ٹی وی پر براہِ راست نشر بھی کی گئیں۔
اپنی گفتگو میں جو بائیڈن نے ری پبلکن صدارتی امیدوار پر کرونا وائرس کے خطرناک ہونے کی معلومات چھپانے کا الزام عائد کیا جو اب تک تقریباً 80 لاکھ امریکیوں کو متاثر کر چکا ہے۔
'نوجوان اور صحت مند افراد کو ویکسین کے لیے 2022 تک انتظار کرنا ہوگا'
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ نوجوانوں اور صحت مند افراد کو کرونا کی ویکسین آنے کے بعد بھی ایک سال تک اس کی دستیابی کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
بعض ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ نوجوان اور صحت مند افراد کو ویکسین کے لیے انتظار کرنا ہو گا۔
عالمی ادارۂ صحت کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامی ناتھ کا کہنا ہے کہ لوگ سوچ رہے کہ یکم جنوری یا یکم اپریل کو ویکسین دستیاب ہو گی اور سب کچھ پہلے کی طرح نارمل ہو جائے گا۔ یہ کام اس طرح بالکل نہیں ہوتا۔
آن لائن سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی بہت سی ہدایات سامنے آنی ہیں۔ لیکن ممکنہ طور پر ایک صحت مند اور نوجوان فرد کو ویکسین کے لیے 2022 تک انتظار کرنا ہوگا۔
خیال رہے کہ ماہرین پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ نوجوان بھی کرونا وائرس کے سبب بیمار ہو سکتے ہیں یا ان کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ یا ان سے بیماری پھیل بھی سکتی ہے۔ البتہ یہ شواہد موجود ہیں کہ نوجوان یا صحت مند افراد کے مقابلے میں بڑی عمر یا پیچیدہ بیماریوں کے شکار افراد کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
امریکہ: بے روزگاری میں اضافہ، ایک ہفتے میں بے روزگاری الاؤنس کی نو لاکھ درخواستیں
امریکہ میں گزشتہ ہفتے بے روزگاری الاؤنس کے لیے آٹھ لاکھ 98 ہزار امریکیوں نے درخواستیں دی ہیں جو کہ دو ماہ کے عرصے میں تاریخی اضافہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی وبا کے دنوں میں ملازمتوں سے فارغ کیے جانا معیشت کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
امریکہ کے لیبر ڈپارٹمنٹ کی جاری کردہ رپورٹ دیگر حالیہ ڈیٹا سے مطابقت رکھتی ہے جن میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ روزگار کی فراہمی سست روی کا شکار ہے۔
اس سال موسمِ بہار میں عالمی وبا کی وجہ سے کل 22 ملین یعنی دو کروڑ 20لاکھ ملازمتیں ختم ہو گئی تھیں، جن میں سے ایک کروڑ 70 لاکھ ملازمتیں ابھی تک بحال نہیں ہو سکیں ہیں۔
گزشتہ ماہ سے کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد میں ملک بھر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے امریکی اب باہر کھانا کھانے، شاپنگ اور دیگر تجارتی سرگرمیوں سے اجتناب برت رہے ہیں۔
ملک بھر میں بے روزگاری مراعات کے لئے درخواستوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب اسٹمولس پیکج یعنی کاروباروں میں جان ڈالنے کے منصوبے کے تحت امدادی رقوم کی فراہمی پر مذاکرات، ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی اور وزیرخزانہ سٹیو منوچن کے درمیان تعطل کا شکار ہیں۔
اسٹاف کا کرونا ٹیسٹ مثبت، کاملا ہیرس کی انتخابی مصروفیات معطل
ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نائب صدارت کی امیدوار کاملا ہیرس نے اپنے اسٹاف کے دو ارکان کے کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اگلے پیر تک انتخابی مہم میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی انتخابی مہم نے جمعرات کو بتایا ہے کہ بائیڈن کا کسی بھی ایسے فرد سے سامنا نہیں ہوا جب کہ آٹھ اکتوبر کو بائیڈن اور ہیرس ریاست ایریزونا میں انتخابی مہم کے دوران کئی گھنٹے اکٹھے شریک رہے۔
شیڈول کے مطابق کاملا ہیرس کو جمعرات کو شمالی کیرولائنا جانا تھا، جہاں ووٹروں سے ایک ملاقات میں انہوں نے الیکشن کے دن سے پہلے ووٹ ڈالنے پر بات کرنا تھی۔
ہیرس کی انتخابی مہم نے صحافیوں کو جمعرات کو بتایا کہ ان کے کمیونیکیشنز کے ڈائریکٹر اور جہاز کے عملے کے ایک رکن کے ایک حالیہ دورے کے بعد کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔