امریکی انتخابات کے نتائج میں تاخیر کے خدشات کیوں؟
امریکہ میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر کے خدشات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔ کیوں کہ اس سال کرونا وائرس کی وجہ سے امریکی ووٹرز کی ایک بڑی تعداد ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈال رہی ہے۔ 'میل اِن بیلٹس' کا طریقۂ کار انتخابی نتائج کے جلد اعلان کی راہ میں رکاوٹ کیسے ہے؟ جانیے اس ایکسپلینر میں۔
جرمنی میں مزید سات ہزار سے زائد افراد کرونا کا شکار
یورپی ملک جرمنی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید سات ہزار 830 افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
جرمنی کے وبائی امراض کے ادارے ‘آر کے آئی’ کے مطابق اس وبا سے اب تک تین لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔
'آر کے آئی' کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں ہونے والی مزید 33 ہلاکتوں کے بعد جرمنی میں وبا کے سبب ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 9 ہزار 767 ہو گئی ہے۔
بھارت: چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 61 ہزار سے زائد کیس
امریکہ کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں چوبیس گھنٹوں میں مزید 61 ہزار سے زائد افراد میں وبا کی تشخیص ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد لگ بھگ 75 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداوشمار کے مطابق اتوار کو بھارت میں وبا کے سبب مزید ایک ہزار 33 اموات رپورٹ ہوئیں۔
بھارت میں وبا پھوٹنے کے بعد اس مہلک وائرس سے اب تک ایک لاکھ 14 ہزار 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
'جمعے کو دنیا بھر میں کرونا کے چار لاکھ کیس رپورٹ ہوئے'
یورپی ممالک میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے سبب وبا پھوٹنے کے بعد پہلی بار جمعے کو دنیا بھر میں چار لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔
یورپ میں کرونا وائرس کی پہلی لہر پر کامیابی سے قابو پانے کے بعد دوسری لہر میں پچھلے ہفتے اوسطً یومیہ ایک لاکھ 40 ہزار کیس سامنے آئے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق یورپ سے اس وبا کے رپورٹ کیے جانے والے کیسوں کی تعداد، بھارت، برازیل اور امریکہ سے رپورٹ ہونے والے مجموعی کیسوں سے زیادہ ہے۔
خیال رہے کہ یورپ میں وبا پھوٹنے کے بعد سے اب تک 63 لاکھ سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔
جن ممالک میں کرونا وائرس کے کیس رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان میں برطانیہ، فرانس، اسپین اور ہالینڈ سرِفہرست ہیں۔