پاکستان میں وائرس سے مزید 6 افراد ہلاک، اموات 6745 ہو گئیں
پاکستان میں کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا سے اموات کی تعداد 6 ہزار 745 ہو گئی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں وبا سے 3 لاکھ 29 ہزار 375 افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے 3 لاکھ 11 ہزار 440 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 11ہزار 190 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے 773 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں زیرِ علاج 11ہزار 190 افراد میں 576 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
بیرونِ ملک پڑھنے والے طلبہ غیر یقینی کا شکار
کرونا وائرس کے باعث ایسے بہت سے پاکستانی طلبہ کا نقصان ہوا ہے جو بیرونِ ملک پڑھ رہے تھے یا پڑھنے کے لیے جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ عالمی وبا کے باعث فلائٹس سے لے کر کیمپس میں کلاسوں کے نظام تک، سب کچھ بدل گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں طلبہ کو بھی اپنے ارادے بدلنا پڑے ہیں۔
کرونا وائرس کو سیاسی نہ بنایا جائے: سربراہ عالمی ادارۂ صحت
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کو سیاسی نہ بنایا جائے۔ وبائی مرض کو سیاسی بنانے سے معاملات الجھ جائیں گے وبائی صورتِ حال مزید خراب ہو جائے گی۔
اقوام متحدہ کی ماتحت ایجنسی کی معمول کی بریفنگ میں ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او ٹیڈروس نے کہا ہے کہ وبائی مرض شروع ہونے کے بعد گزشتہ ہفتے سے سب سے زیادہ کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ شمالی نصف کرہ کے بیشتر ممالک میں اسپتالوں میں آنے والے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں بھی متاثرہ افراد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے متعدد رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں اپنے حالات کا جائزہ لینے کے بعد وبائی مرض کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کیے۔ جیسے لاک ڈاؤن، گھر سے تعلیم کا حصول یا کام کرنا شامل ہے۔
ان کے بقول اس کے علاوہ بھی انہوں نے مرض کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے مختلف پابندیاں عائد کیں۔
کرونا بحران میں 86 سالہ دلہے اور 83 سالہ دلہن کی یادگار شادی
آئرلینڈ کا ایک معمر جوڑا جو 40 سال سے زیادہ عرصے سے شادی کا منتظر تھا کرونا وائرس کی پابندیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے شادی کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
آئرلینڈ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے اور انہیں اس لاک ڈاؤن کے دوران شادی کرنے کے لیے بہت تگ و دو کرنا پڑی۔
شادی کرنے والا یہ جوڑا کوئی عام نہیں ہے، بلکہ بہت خاص الخاص ہے۔ اسی وجہ سے میڈیا اور سوشل میڈیا میں ان کے تذکرے ہو رہے ہیں اور انسٹاگرام میں تصویریں چھپ رہی ہیں۔
دولہے کا نام جان برمنگھم ہے۔ اس کی عمر 86 سال ہے۔ جب کہ دلہن کا نام میری لانگ ہے اور وہ اپنی زندگی کی 83 ویں بہار دیکھ رہی ہے۔ یہ سال اس کی زندگی میں شادی کی خوشیاں لے کر آیا ہے اور اس کا وہ خواب پورا ہو گیا ہے جو اس نے 40 سال پہلے دیکھا تھا۔
جان کا تعلق آئرلینڈ کے علاقے روڈ ویڈ سے ہے۔ وہ ایک کسان ہے۔ وہ گھوڑے پالنے اور انہیں سدھانے کا بھی ماہر ہے۔ جب کہ میری خواتین کو سنوارنے اور انہیں حسین تر بنانے کی ماہر ہے۔ وہ ریٹائر ہونے تک ڈبلن میں بیوٹی کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتی رہی ہے۔ لیکن اس کا تعلق کروک سٹی کے علاقے ٹرنر سے ہے۔
جان کے والد جیک آئرلینڈ کے رگبی کے مشہور کھلاڑی تھے، جس پر جان فخر کرتے ہیں۔