چین میں دو ماہ بعد ایک دن میں سامنے آنے والے سب سے زیادہ کیسز
چین میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 42 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ چین میں گزشتہ دو ماہ میں ایک دن میں رپورٹ ہونے والے سب سے کیسز کی تعداد ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق چین میں 10 اگست کو 44 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس کے بعد منگل کو سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے ہی کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہوا تھا۔
چین میں حکام کا دعویٰ ہے کہ اب تک ملک بھر میں 91 ہزار کے لگ بھگ کیسز ہی سامنے آئے ہیں جب کہ 4739 اموات ہوئی ہیں۔
تھائی لینڈ میں ایمرجنسی میں مزید ایک ماہ کی توسیع
تھائی لینڈ میں کابینہ نے کرونا وائرس کی صورتِ حال کے باعث نافذ ہنگامی حالات کے اطلاق کی مدت مزید ایک ماہ بڑھا دی ہے۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں وبا کے باعث مارچ میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تھائی لینڈ میں اب تک وبا سے 3759 افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ 59 اموات ہوئی ہیں۔
جنوبی افریقہ کے صدر قرنطینہ میں چلے گئے
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوزا کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کے ساتھ عشائیے میں شریک ہونے کے بعد قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق صدر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی علامات سامنے نہیں آئیں۔ جب کہ ان کی صحت بہتر ہے۔
جنوبی افریقہ کی حکومت کے مطابق صدر قرنطینہ میں رہتے ہوئے امور مملکت انجام دیں گے۔
'ویکسین آنے پر حفاظتی اقدامات ترک کرنا عقل مندی نہیں ہو گی'
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے اٹھائے جانے والے حفاظتی انتظامات جیسے ماسک پہننا، سماجی دوری اور ہاتھوں کو دھونے جیسے اقدامات ویکسین آنے کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین 100 فی صد مفید نہیں ہو گی۔
وانڈربلٹ یونی ورسٹی میڈیکل سینٹر میں وبائی امراض کے پروفیسر ولیم شافنر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ "ویکسین وائرس کے خلاف زرہ بکتر نہیں ہو گی۔"
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی انفلوئینزا کے لیے استعمال ہونے والی ویکسین حالیہ برسوں میں 60 فی صد تک کامیاب رہی ہے جب کہ اس دوران اس کی افادیت 10 فی صد بھی رہی ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کرونا وائرس کی ویکسین کے مفید ہونے کا معیار کم سے کم 50 فی صد رکھا ہے۔
ایف ڈی اے کے لیے ماضی میں کام کرنے والے چیف سائنس دان جیسی گڈمین کے بقول جزوی طور پر مفید ویکسین زیادہ خطرے والے طبقات کے لیے سود مند ہو گی۔ جیسے فرنٹ لائن ورکر جو اسپتالوں میں کام کر رہے ہیں یا جنہیں صحت کی تکالیف ہیں۔ مگر یہ تمام آبادی کے لیے مفید نہیں ہو گی۔