'ویکسین آنے پر حفاظتی اقدامات ترک کرنا عقل مندی نہیں ہو گی'
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے اٹھائے جانے والے حفاظتی انتظامات جیسے ماسک پہننا، سماجی دوری اور ہاتھوں کو دھونے جیسے اقدامات ویکسین آنے کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین 100 فی صد مفید نہیں ہو گی۔
وانڈربلٹ یونی ورسٹی میڈیکل سینٹر میں وبائی امراض کے پروفیسر ولیم شافنر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ "ویکسین وائرس کے خلاف زرہ بکتر نہیں ہو گی۔"
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی انفلوئینزا کے لیے استعمال ہونے والی ویکسین حالیہ برسوں میں 60 فی صد تک کامیاب رہی ہے جب کہ اس دوران اس کی افادیت 10 فی صد بھی رہی ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کرونا وائرس کی ویکسین کے مفید ہونے کا معیار کم سے کم 50 فی صد رکھا ہے۔
ایف ڈی اے کے لیے ماضی میں کام کرنے والے چیف سائنس دان جیسی گڈمین کے بقول جزوی طور پر مفید ویکسین زیادہ خطرے والے طبقات کے لیے سود مند ہو گی۔ جیسے فرنٹ لائن ورکر جو اسپتالوں میں کام کر رہے ہیں یا جنہیں صحت کی تکالیف ہیں۔ مگر یہ تمام آبادی کے لیے مفید نہیں ہو گی۔
پاکستان میں مثبٹ کیسز کی شرح 70 دن بعد تین فی صد سے زائد
پاکستان میں حکام کی جانب سے کرونا وائرس کی دوسری لہر کے پیشِ نظر ملک کے مختلف شہروں میں دوبارہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، میرپور، حیدرآباد سمیت 11 شہروں میں کاروباری مراکز، ریستوران، شادی ہال رات 10 بجے جب کہ تفریحی مقامات شام چھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ادھر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ ملک میں 70 دن بعد مثبت کیسز کی شرح تین فی صد سے بڑھ گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیماری بڑھ رہی ہے۔
اُن کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ کرونا کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے عوام کو احتیاط کرنا ہو گی۔
جرمنی میں دو سے 20 نومبر تک بارز، تھیٹرز اور ریستوران بند کرنے کا فیصلہ
جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے اعلان کیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے باعث دو سے 20 نومبر تک بارز، تھیٹرز اور ریستوران بند رہیں گے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جرمن چانسلر نے کہا کہ مقامی حکومتوں کی مشاورت کے ساتھ دوبارہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں کیوں کہ وائرس کی دوسری لہر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اینجلا مرکل نے کہا کہ جرمنی کا نظامِ صحت موجودہ صورتِ حال کو سنبھال سکتا ہے، لیکن لاک ڈاؤن نہ کیا تو آنے والے ہفتوں میں صورتِ حال کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔
یورپ میں وائرس کی دوسری لہر کے باعث ایک بار پھر اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رُجحان دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت میں متاثرین کی تعداد 80 لاکھ سے زائد
بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 80 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے جب کہ موسمِ سرما میں ماہرین وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد وشمار کے مطابق ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک بھارت میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 80 لاکھ 40 ہزار 203 ہوگئی ہے جب کہ اب تک ایک لاکھ 20 ہزار 527 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بھارت کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جہاں اب تک کرونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 90 لاکھ 10 ہزار ہو چکی ہے۔
دارالحکومت نئی دہلی میں بدھ کو پانچ ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جو ایک دن کے دوران سامنے آنے والے کیسز کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
بھارت کا معاشی مرکز سمجھا جانے والا ممبئی، بھارت کا سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے جہاں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ کیسز اور دس ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔