پاکستان: مسلسل تیسرے روز 13 سو سے زائد کیسز رپورٹ
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مسلسل تیسرے روز 13 سو سے زائد یومیہ کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔
پاکستان میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ایک ہزار 376 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں وبا کے باعث 30 افراد کی اموات رپورٹ ہوئیں۔
پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد 6 ہزار 923 ہو گئی ہے۔
حکومت کے مطابق پاکستان میں اب تک 46 لاکھ سے زائد کرونا ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔
پاکستان میں اس وبا سے اب تک تین لاکھ سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
فرانس، اٹلی اور روس میں ریکارڈ کیسز
دنیا کے مختلف ملکوں کو کرونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے جس کے باعث کرفیو سمیت دیگر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ جمعے کو فرانس، اٹلی اور روس میں ریکارڈ کیسز سامنے آئے ہیں۔
فرانس کی وزارتِ صحت کے مطابق جمعے کو 60 ہزار 486 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ایک روز قبل فرانس میں 58 ہزار ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
فرانس کی وزارتِ صحت کے مطابق جمعے کو کرونا کا شکار مزید 828 افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
اسی طرح اٹلی نے جمعے کو 37 ہزار 809 کیسز کی تصدیق کی جب کہ روس نے بھی 20 ہزار 582 ریکارڈ کیسز کی تصدیق کی ہے۔
یورپ میں ایک مرتبہ پھر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ برطانیہ نے جمعرات سے چار ہفتوں کا لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے جب کہ یونان میں آئندہ تین ہفتوں کے لیے شٹ ڈاؤن کیا جا رہا ہے جس کا آغاز ہفتے سے ہو گیا ہے۔
پاکستان میں 1500 سے زیادہ کیسز، 20 مریض دم توڑ گئے
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے شکار 20 مریض دم توڑ گئے جب کہ 1500 سے زیادہ افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں عالمی وبا سے اب تک 6943 اموات اور تین لاکھ 41 ہزار 753 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ایسے مریض جن کی حالت تشویش ناک ہے ان میں مزید 60 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 890 ہو گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک تین لاکھ 17 ہزار 898 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور ملک بھر میں مجموعی طور پر 46 لاکھ 43 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
وبا کی دوسری لہر میں تیزی کا اندیشہ، پاکستان میں جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ
پاکستان میں حکومت نے کرونا وائرس کی دوسری لہر میں تیزی کے خدشات اور کیسز کی تعداد میں اضافے کے بعد ملک بھر کے سرکاری و نجی اداروں میں نصف عملہ بلانے، شادی کی ’ان ڈور‘ تقاریب پر پابندی لگانے اور ماسک نہ پہننے پر جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق ایس او پیز پر عمل درآمد کا یہ مرحلہ 31 جنوری 2021 تک جاری رہے گا۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ہفتے سے ملک بھر میں احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق دوسرے مرحلے میں فیس ماسک پہننے کی پابندی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے گلگت بلتستان ماڈل پر عمل درآمد ہوگا۔
ملک کے زیادہ متاثرہ شہروں میں ماسک نہ پہننے والوں پر 100 روپے جرمانہ عائد ہو گا اور اس جرمانے کے عوض انہیں تین ماسک فراہم کیے جائیں گے۔
ان ڈور شادی کی تقریبات پر پابندی عائد ہو گی۔ البتہ شادی کی تقریبات کھلی فضا میں منعقد کرنے کی اجازت ہو گی۔
احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کا نفاذ ان شہروں میں ہوگا جہاں اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق بڑی تعداد میں کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
ان شہروں میں کراچی، حیدرآباد، لاہور، ملتان، گجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، بہاولپور، اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت، مظفر آباد، میرپور، پشاور، ایبٹ آباد اور کوئٹہ شامل ہیں۔
پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا ہے کہ سرد موسم کی وجہ سے بیماری کے پھیلنے کا زیادہ امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عام سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔ جب کہ بڑے بڑے مذہبی اور سیاسی اجتماعات ہو رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال شدید تشویش کا باعث ہے۔