فلسطین کی نامور سیاسی شخصیت صائب عریقات انتقال کر گئے
فلسطین کی ایک نامور سیاسی شخصیت صائب عريقات کرونا وائرس سے ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث منگل کو انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی جماعت کے ایک سینئر عہدے دار نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔
صائب عریقات کی عمر 65 برس تھی۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ امن مذاکرات 2014 میں ختم ہو گئے تھے۔
عریقات فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے سیکریٹری جنرل بھی تھے۔
صائب عریقات 8 اکتوبر کو کرونا وائرس کا شکار ہوئے تھے۔ انہوں نے 2017 میں امریکہ میں پھیپھڑوں کی پیوندکاری کرائی تھی جس کی وجہ سے ان کی قوتِ مدافعت کمزور تھی۔
صائب عریقات کو گزشتہ ہفتے یروشلم کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا تھا۔
بنگلہ دیش ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان کرونا کا شکار
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ فارمیٹ کے کپتان مومن الحق کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
کھیلوں کی خبروں کی معروف ویب سائٹ 'کرک انفو' کے مطابق مومن الحق نے کہا ہے کہ انہیں منگل کو بتایا گیا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ ان کے بقول "مجھ میں کرونا وائرس کی علامات کی شدت زیادہ نہیں ہے لیکن پرسوں سے بخار ہے"
انہوں نے کہا ہے کہ ان کی اہلیہ بھی کرونا کا شکار ہوئی ہیں اور دونوں نے خود کو اپنے گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔
پاکستان میں کرونا سے سات ہزار اموات
پاکستان میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار ہو گئی ہے جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 اموات ہوئی ہیں۔
پاکستان میں پیر کو 1637 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک میں ایکٹو کیسز کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
پاکستان میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد تین لاکھ 46 ہزار سے زائد ہے جس میں سے تین لاکھ 19 ہزار مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
نئی دہلی میں اسموگ، کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافے کا خطرہ
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کو گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں رواں سال بدترین فضائی آلودگی کا سامنا ہے جس سے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
نئی دہلی میں رواں سال کے آغاز میں حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے نفاذ سے فضائی آلودگی تقریباً ختم ہو گئی تھی لیکن لاک ڈاؤن کے خاتمے اور پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ہی آلودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی کا 'اے کیو آئی' یعنی ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل پانچ روز سے چار سو سے زیادہ ہے۔
فصلوں کی باقیات جلانے اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کے ذرات ہوا میں شامل ہو کر اسے آلودہ کر دیتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے ذرات دل اور سانس کی بیماریوں کا موجب بن سکتے ہیں جس سے لامحالہ کرونا مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
بھارتی ڈاکٹروں کی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری جنرل آر وی اشوکن کے مطابق پی ایم 2.5 نامی یہ آلودہ ذرات ناک کے ذریعے سانس کی نالیوں میں داخل ہو کر پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں جس سے کرونا وائرس کیسز بڑھ سکتے ہیں۔