رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

19:34 10.11.2020

کرونا ویکسین پر امیر ملکوں کی اجارہ داری تشویش ناک ہے: فواد چوہدری

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین پر صرف امیر ملکوں کی اجارہ داری تشویش ناک ہے۔

منگل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ پانچ امیر ترین ممالک نے کرونا ویکسین کی 50 کروڑ خوراکوں کا آرڈر دیا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی فراہمی کے لیے کم از کم دو سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت اور دیگر عالمی اداروں کو اس صورتِ حال کا ادراک کرنا ہو گا۔

19:37 10.11.2020

18:10 11.11.2020

امریکہ میں کرونا وائرس کے یومیہ کیسز کا نیا ریکارڈ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ میں منگل کو مسلسل ساتویں روز کرونا وائرس کے ایک لاکھ سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ بدھ کو ایک ہی دن میں یومیہ کیسز کی ریکارڈ تعداد رپورٹ ہوئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ میں کرونا وائرس کے ایک لاکھ 36 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 1450 اموات ہوئی ہیں۔ اگست کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ میں یومیہ اموات کی تعداد 1400 سے تجاوز کر گئی ہے۔

امریکہ میں کرونا کیسز کی مجموعی تعداد ایک کروڑ، دو لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہے جب کہ دو لاکھ 39 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

18:21 11.11.2020

ڈبلیو ایچ او کرونا وائرس کی تحقیقات کی معلومات کا تبادلہ نہیں کر رہا: امریکہ کا شکوہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے شکایت کی ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے چین میں کرونا وائرس کی جائے پیدائش سے متعلق اپنی تحقیقات کے بارے میں اب تک معلومات فراہم نہیں کیں۔

امریکی محکمۂ صحت کے اہلکار گیرٹ گرسبی نے منگل کو ڈبلیو ایچ او کے رکن ممالک سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کے دوران کہا کہ کرونا وائرس کی تحقیقات کے سلسلے میں قائم ڈبلیو ایچ او کے مشن نے چین میں اپنی تحقیقات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ دیگر اقوام سے نہیں کیا۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ چین میں کرونا وائرس سے متعلق جن امور پر تحقیقات کی جانی تھی اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او نے تمام رکن ممالک سے شفاف انداز میں بات چیت نہیں کی۔

گیرٹ گرسبی کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی ابتدا کہاں سے ہوئی اس حوالے سے بھی شفاف اور جامع تحقیقات ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ حالیہ چند ماہ کے دوران ڈبلیو ایچ او کی قیادت میں ایک تحقیقاتی ٹیم نے چین میں جانوروں سے کرونا وائرس کی پیدائش سے متعلق تحقیقات کی تھی تاہم بعض سائنس دان فکر مند ہیں کہ اب تک جو تحقیقات ہو چکی ہے اس کی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG