بنگلہ دیش ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان کرونا کا شکار
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ فارمیٹ کے کپتان مومن الحق کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
کھیلوں کی خبروں کی معروف ویب سائٹ 'کرک انفو' کے مطابق مومن الحق نے کہا ہے کہ انہیں منگل کو بتایا گیا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ ان کے بقول "مجھ میں کرونا وائرس کی علامات کی شدت زیادہ نہیں ہے لیکن پرسوں سے بخار ہے"
انہوں نے کہا ہے کہ ان کی اہلیہ بھی کرونا کا شکار ہوئی ہیں اور دونوں نے خود کو اپنے گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔
پاکستان میں کرونا سے سات ہزار اموات
پاکستان میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار ہو گئی ہے جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 اموات ہوئی ہیں۔
پاکستان میں پیر کو 1637 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک میں ایکٹو کیسز کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
پاکستان میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد تین لاکھ 46 ہزار سے زائد ہے جس میں سے تین لاکھ 19 ہزار مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
نئی دہلی میں اسموگ، کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافے کا خطرہ
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کو گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں رواں سال بدترین فضائی آلودگی کا سامنا ہے جس سے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
نئی دہلی میں رواں سال کے آغاز میں حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے نفاذ سے فضائی آلودگی تقریباً ختم ہو گئی تھی لیکن لاک ڈاؤن کے خاتمے اور پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ہی آلودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی کا 'اے کیو آئی' یعنی ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل پانچ روز سے چار سو سے زیادہ ہے۔
فصلوں کی باقیات جلانے اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کے ذرات ہوا میں شامل ہو کر اسے آلودہ کر دیتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے ذرات دل اور سانس کی بیماریوں کا موجب بن سکتے ہیں جس سے لامحالہ کرونا مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
بھارتی ڈاکٹروں کی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری جنرل آر وی اشوکن کے مطابق پی ایم 2.5 نامی یہ آلودہ ذرات ناک کے ذریعے سانس کی نالیوں میں داخل ہو کر پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں جس سے کرونا وائرس کیسز بڑھ سکتے ہیں۔
کرونا ویکسین پر امیر ملکوں کی اجارہ داری تشویش ناک ہے: فواد چوہدری
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین پر صرف امیر ملکوں کی اجارہ داری تشویش ناک ہے۔
منگل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ پانچ امیر ترین ممالک نے کرونا ویکسین کی 50 کروڑ خوراکوں کا آرڈر دیا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی فراہمی کے لیے کم از کم دو سال کا عرصہ درکار ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارۂ صحت اور دیگر عالمی اداروں کو اس صورتِ حال کا ادراک کرنا ہو گا۔