کرونا وائرس: پاکستان میں 300 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی
پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے پیشِ نظر 300 سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جلسے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی اپیل کی ہے۔
پیر کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد عوام سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ چھ، سات روز کے دوران کرونا وائرس کیسز میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔
اُن کے بقول اگر صورتِ حال یہی رہی تو پاکستان میں جون کے مہینے جیسے حالات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں جب اسپتالوں میں گنجائش کم پڑنے لگی تھی۔
عمران خان نے کہا کہ شادی ہالوں میں اِن ڈور کیٹرنگ پر پابندی ہو گی جب کہ آؤٹ ڈور کیٹرنگ میں 300 مہمانوں کی اجازت ہو گی۔
کرونا وائرس: امریکی یونیورسٹیوں میں انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس میں نمایاں کمی
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث امریکہ کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بین الاقوامی طالب علموں کے داخلوں کی شرح میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ تین سال سے جاری ہے، جس کی وجہ اخراجات میں اضافہ، ویزے کی پابندیاں اور اس سے متعلق مسائل شامل ہیں۔
امریکہ میں نئے تعلیمی سال کا آغاز تین مہینے پہلے ہو گیا تھا، لیکن اس دوران کرونا وائرس کے باعث بین الاقوامی طالب علموں کے داخلے کی شرح میں 43 فی صد کمی واقع ہوئی ہے جو تقریباً 40 ہزار طالب علم بنتی ہے۔
غیر ملکی طالب علموں کے متعلق یہ اعداد و شمار ایک گروپ نے مرتب کیے ہیں، جس کے لیے فنڈز امریکہ کا محکمۂ خارجہ فراہم کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر بین الاقوامی طالب علموں کو تعلیمی ویزے جاری کیے جاتے ہیں اور تعلیمی اور معلوماتی دوروں کا بندوبست کیا جاتا ہے۔
کرونا وائرس کی مؤثر ویکسین تیار کر لی، موڈرنا بائیو ٹیک کا اعلان
امریکہ کی ایک اور دوا ساز کمپنی موڈرنا نے اعلان کیا کہ کرونا وائرس کے خلاف اس کی بنائی گئی ویکسین انسانی تجربات میں 94 اعشاریہ پانچ فی صد تک مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
اس سے پہلے فائزر نے ایک ہفتہ قبل اعلان کیا تھا کہ اس کی تیار کردہ ویکسین بھی کرونا وائرس کے خلاف تجربات میں مؤثر رہی ہے۔
کرونا وائرس کے خلاف جاری کوششوں میں یہ دونوں اطلاعات ایسے وقت میں امید افزا خبریں بن کر سامنے آئی ہیں جب کووڈ نائنٹین کا موذی مرض پوری دنیا میں پھر سے تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سے ہونے والی اموات کی شرح آٹھ ہزار یومیہ تک جا پہنچی ہے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق اب یہ دونوں کمپنیاں امریکہ میں ہنگامی صورت میں ویکسین استعمال کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔
فائزر کی آزمائشی ویکسین امریکہ کی چار ریاستوں میں تقسیم
امریکہ کی دوا ساز کمپنی فائزر نے آزمائشی بنیاد پر اپنی تیار کردہ ویکسین کی تقسیم شروع کر دی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ویکسین امریکہ کی چار ریاستوں میں تقسیم کی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کرونا وائرس کی ویکسین ریاست ٹیکساس، نیو میکسیکو، رہوڈ آئی لینڈ اور ٹینیسی میں آزمائشی بنیاد پر مریضوں کو دی جائے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین کے نتائج سے پر امید ہیں جس کے بعد کرونا سے بچاؤ کی ویکسین امریکہ کی دیگر ریاستوں اور دنیا کے مختلف ممالک میں تقسیم کی جائے گی۔
یاد رہے کہ فائزر کی تیار کردہ ویکسین کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ ویکسین کرونا کی روک تھام کے لیے 90 فی صد مؤثر ہے۔
فائزر کی تیار کردہ ویکسین کو منفی 70 سینٹی گریڈ پر رکھنا ضروری ہے۔ عمومی طور پر ویکسینز کو دو سے چار سینٹی گریڈ پر رکھا جاتا ہے۔ البتہ کرونا وائرس کی ویکسین کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھا جانا ضروری ہے۔
کمپنی کو توقع ہے کہ ویکسین کے بڑے پیمانے ہونے والے تجربات نومبر کے تیسرے ہفتے تک جاری رہیں گے جس کے بعد ان کے پاس دوا کے مؤثر ہونے سے متعلق اتنا ڈیٹا موجود ہو گا جس کی بنیاد پر ویکسین کی ہنگامی بنیاد پر استعمال کی اجازت کی درخواست دی جائے گی۔
یاد رہے کہ فائزر اور اس کی پارٹنر کمپنی بائیو ٹیک نے امریکہ کی حکومت سے ایک ارب 95 کروڑ ڈالر کے عوض 10 کروڑ خوراکیں فراہم کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔
فائزر نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس کی تیار کردہ ویکسین 90 فی صد تک مؤثر ہے جب کہ موڈرنا نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ اس کی تیار کردہ ویکسین 94.5 فی صد تک کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے کار آمد ہے۔
دونوں کمپنیوں کی تیاری کردہ ویکسین میں ایک نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے جسے سینتھیٹک میسینجر (آر این اے) کہا جاتا ہے جو وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت کو متحرک کرنے کا کام انجام دیتی ہے۔