پاکستان: مزید 33 مریض ہلاک، 2000 سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار 33 مریض دم توڑ گئے جب کہ 2050 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 29 ہزار 378 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جب کہ عالمی وبا کے شکار مزید ایک ہزار دس مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کرونا کے زیرِ علاج 1447 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
پاکستان میں اب تک مجموعی طور پر عالمی وبا سے 7193 افراد ہلاک اور تین لاکھ 61 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح گزشتہ روز چھ اعشاریہ نو فی صد رہی۔
دنیا بھر میں مزید 8 ہزار اموات، پانچ لاکھ سے زائد افراد متاثر
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 لاکھ 36 ہزار افراد متاثر ہوئے۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار دنیا بھر میں کرونا وائرس سے اب تک 5 کروڑ 50 لاکھ 33 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ جن میں سے 3 کروڑ 53 لاکھ 63 ہزار کے صحت یاب ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں دنیا بھر میں وبا سے 8084 افراد کی موت ہوئی ہے۔ جس کے بعد دنیا بھر میں اموات کی تعداد 13 لاکھ 27 ہزار 500 ہو گئی ہے۔
بھارت میں یومیہ کیسز میں کمی
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 28 ہزار افراد کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ وسط جولائی کے بعد یومیہ کیسز کی سب سے کم تعداد ہے۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں اب تک وبا سے مجموعی طور پر 88 لاکھ 74 ہزار 290 متاثر ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں جولائی کے وسط میں ساڑھے 28 ہزار تک یومیہ کیسز رپورٹ ہو رہے تھے۔ بعد ازاں اس میں اضافہ ہوا اور ستمبر کے وسط میں یومیہ کیسز کی شرح 90 ہزار سے زائد ہو گئی تھے۔ اس کے بعد یومیہ کیسز میں کمی آنا شروع ہوئی۔ اب گزشتہ 24 گھنٹوں میں 28 ہزار 414 کیسز رپورٹ ہوئے۔
بھارت میں گزشتہ اتوار کو ہندوؤں کا بڑا تہوار دیوالی منایا گیا تھا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تہواروں کے موسم میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 433 اموات ہوئی ہیں۔ جس کے بعد وبا کے باعث مرنے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار 519 ہو گئی ہے۔
کیا کرونا ویکسین لینے کے باوجود بھی احتیاط کرنا ہو گی؟
کرونا وائرس کے خلاف ٹرائلز میں 90 فی صد مؤثر ثابت ہونے والی دو ویکسینوں کو امید کی کرن کہا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ویکسین لینے کے باوجود بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا اور اس ویکسین کی کامیابی میں کیا مشکلات درپیش ہوں گی؟