کرونا کی آزمائشی ویکسین تیار، لیکن غریب ملک کیا کریں؟
فارماسوٹیکل کمپنیوں فائزر اور بایو این ٹیک کے اشتراک سے بننے والی کرونا کی ویکسین کے 90 فی صد تک مؤثر ہونے کی خبر سے یہ امید تو پیدا ہوئی ہے کہ اس عالمی وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ لیکن کم ترقی یافتہ ملکوں کے لیے اس ویکسین کو لوگوں تک پہنچانا مشکل نظر آ رہا ہے۔ تفصیلات دیکھیے اس رپورٹ میں۔
جنوبی کوریا میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے سے متعلق سخت پابندیاں عائد
جنوبی کوریا میں ایک ماہ کی مدت کے بعد دوبارہ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی غرض سے جمعرات سے پابندیاں سخت کی جا رہی ہے۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں جنوبی کوریا میں 229 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ یکم ستمبر کے بعد رپورٹ ہونے والے یومیہ کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوبی کوریا میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 28 ہزار 998 ہے جب کہ اب تک 494 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ وبائی مرض پر قابو پانے میں ناکامی کی صورت میں بحران شدید ہو جائے گا اور صورتِ حال سنگین ہونے کا اندیشہ بھی موجود ہے۔
جنوبی کوریا میں سخت پابندیوں کا اطلاق جمعرات سے ہو گا جس کے تحت 100 سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہو گی۔ مذہبی اجتماعات اور کھیلوں سے متعلق تقریبات میں 30 فی صد سے زائد لوگ شرکت نہیں کر سکیں گے۔
حکام نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ ہفتوں کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی یومیہ تعداد 400 تک پہنچ سکتی ہے۔
حکام کے مطابق کلب اور تفریحی سرگرمیوں میں شریک افراد کو سماجی فاصلے کا خاص طور سے خیال رکھنا ہو گا۔ کیوں کہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں لوگوں کا رش ہوتا ہے اس لیے وبا پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا میں سخت پابندیاں عائد کرنے کی وجہ مسلسل چار روز تک 200 سے زائد کیسز کا سامنے آنا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دوبارہ لاک ڈاؤن کا اطلاق
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وبا کے کیسز میں اضافے کے باعث ایک بار پھر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کشمیر کی کابینہ کے اجلاس میں حکام کی بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ کیسز میں اضافے کی شرح 19 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔
حکام نے لاک ڈاؤن کا اطلاق 20 نومبر سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ لاک ڈاؤن 15 دن تک جاری رہے گا۔
لاک ڈاؤن کے دوران میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اسکولز کھولنے سے وبا کے پھیلاؤ میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے تمام اسکولز بند رہیں گے۔
نمازِ جنازہ اور مذہبی اجتماعات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ ان میں مکمل طور پر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ممکن بنایا جائے گا۔
حکام نے شادی بیاہ اور دیگر تقریبات پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
سرکاری دفاتر کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملازمین کی تعداد 50 فی صد تک رکھی جائے گی۔ جب کہ صرف ضروری سروسز ایس او پیز کے ساتھ برقرار رکھی جائیں گی۔
امریکہ میں وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کئی ریاستوں میں نئی پابندیاں
امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث کیلی فورنیا، آئیووا اور متعدد دیگر ریاستوں میں نئی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جن کا مقصد وبا کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔
آئیووا کی گورنر کم رینالڈ نے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے عمارتوں کے اندر ہونے والی تقریبات میں شرکا کی تعداد کو 15 تک محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جب کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور تمام لوگوں کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ تمام کلبز اور ریستوران بھی رات 10 بجے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
گورنر کم رینالڈ کا کہنا ہے کہ اگر آئیووا کے شہری ان پابندیوں پر عمل نہیں کریں گے تو ہمیں کرونا وائرس پر قابو پانے میں ناکامی ہو گی۔
دوسری جانب کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے بھی ریاست کی 58 میں سے 40 کاؤنٹیوں میں تمام کلب اور ریستوران بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ جب کہ لوگوں کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے۔