رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:18 18.11.2020

پاکستان میں رواں ماہ 407 افراد ہلاک

پاکستان میں کرونا وائرس سے نومبر میں چار سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ وبا سے یومیہ اموات کی شرح 22 سے زائد ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 37 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 7230 تک پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ پاکستان میں وبا سے اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے اور نومبر میں گزشتہ 17 روز میں 407 افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ میں اب تک یومیہ اموات کی شرح 22.61 تک پہنچ چکی ہے۔

13:58 18.11.2020

سری لنکا میں وبا کے باعث مچھلی کی فروخت متاثر

سری لنکا میں کرونا وائرس کے سبب مچھلی کی خرید و فروخت شدید متاثر ہوئی ہے جس سے ماہی گیری کی صنعت کو خسارے کا سامنا ہے۔

ماہی گیری کی صنعت کو فروغ دینے اور لوگوں کو بلا خوف و خطر مچھلی کھانے کے لیے راغب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سابق وزیر دلیپ ویڈار رچیچی نے دارالحکومت کولمبو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کچھ مچھلی نگل لی۔

منگل کو پریس کانفرنس میں سابق وزیر کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث آنے والی مندی کو دور کرنے کی غرض سے عوام مچھلی کی فروخت کی حوصلہ افزائی کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ افراد کو مچھلی کی فروخت میں دقت کا سامنا ہے۔ لوگوں نے مچھلی کھانا چھوڑ دی ہے لیکن مچھلی کھانے میں کوئی نقصان نہیں۔

اس کے بعد انہوں نے سب کے سامنے مچھلی منہ میں ڈالی اور نگل لی۔

پریس کانفرنس جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مچھلی میں آپ کو دکھانے کے لیے لایا ہوں۔ میری عوام سے اپیل ہے کہ مچھلی کھائیں۔ اس میں ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ مچھلی کھانے سے کرونا وائرس نہیں پھیلتا۔

دلیپ ویڈار کا تعلق سری لنکا کی حزبِ اختلاف کی جماعت سے ہے۔ وہ گزشتہ سال تک ماہی گیری کے وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

کولمبو کی مرکزی ہول سیل مارکیٹ میں وبائی مرض پھیلنے سے بہت سے لوگ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جو بعد میں ملک بھر میں پھیلتا چلا گیا جس کے بعد فش مارکٹ کو بند کرا دیا گیا تھا۔

مارکیٹ بند ہونے کے نتیجے میں کئی ٹن مچھلی فروخت ہونے سے رہ گئی اور قیمتیں گرتی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ لوگوں نے مچھلی خریدنا اور کھانا ترک کر دیا۔ حالاںکہ مچھلی سری لنکا کی اہم ترین غذا شمار ہوتی ہے۔

14:10 18.11.2020

بھارت میں کرونا وائرس کے 39 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ

بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 39 ہزار 366 کیسز سامنے آئے ہیں۔

امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق نئے اضافے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 89 لاکھ 12 ہزار 907 ہو گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 490 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بھارت میں​اب تک ایک لاکھ 30 ہزار 993 افراد کی وبا کے باعث موت ہو چکی ہے۔

جنوبی ایشیا کا ملک بھارت متاثرین کی مجموعی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

بھارت میں سب سے زیادہ کیسز ستمبر میں رپورٹ ہوئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے بھارت میں ان دنوں چوںکہ تہواروں کا موسم ہے اور ایک کے بعد ایک تہوار منائے جا رہے ہیں۔ اس لیے متاثرین کی تعداد میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔

14:26 18.11.2020

جنوبی آسٹریلیا میں چھ روز کے لیے 'سرکٹ بریکر' لاک ڈاؤن

آسٹریلیا کی ریاست 'ساؤتھ آسٹریلیا' میں دارالحکومت ایڈیلیڈ میں کرونا وائرس کے کیسز میں اچانک اضافے کے باعث چھ روزہ 'سرکٹ بریکر' لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ساؤتھ آسٹریلیا کی آبادی 20 لاکھ سے زائد ہے۔ جہاں اسکول، ریستوران اور کارخانوں کو بدھ کی رات 12 بجے بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

ریاست میں شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

عوام کو صرف انتہائی ضروری کام، علاج کرانے یا کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت ہو گی۔

چھ روزہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ ایڈیلیڈ کے ایک ہوٹل میں دو نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔ یہ ہوٹل بیرون ملک سے آنے والے افراد کے لیے قرنطینہ کی غرض سے استعمال ہو رہا تھا۔

ساؤتھ آسٹریلیا میں شادی اور موت کے بعد آخری رسومات کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ جب کہ عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

گزشتہ روز وبائی مرض کے 19 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے بین الاقوامی پروازیں معطل کر دی تھیں۔ کرونا وائرس کے مریضوں سے رابطے میں آنے والے ہزاروں افراد کو قرنطینہ کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

دوسری جانب میلبرن میں دو ہفتوں سے زائد عرصے کے دوران کرونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہ آنے کے بعد پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔

امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں کرونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 27 ہزار 777 ہو گئی ہے جب کہ اب تک 907 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG