مہلک جراثیم کے خلاف جنگ میں شریک روبوٹس
کرونا کی عالمی وبا کے دوران صفائی ستھرائی اور سینیٹائزر وغیرہ کا استعمال بہت ضروری ہے۔ عوامی مقامات پر وائرس کے خاتمے کے لیے بھی مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک ذریعہ ہیں روبوٹس جو اب 'الٹرا وائلٹ' شعاعوں کی مدد سے عوامی مقامات کو جراثیم سے پاک کرنے کا کام کر رہے ہیں
پاکستان کو آئی ایم ایف کا معطل شدہ پروگرام جلد بحال ہونے کی اُمید
وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امید ظاہر کی ہے کہ کرونا وائرس کے باعث پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا معطل شدہ مالیاتی پروگرام جلد بحال ہو جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں آئی ایم ایف کے ساتھ جاری گفت و شنید کو باضابطہ شکل دینے کے لیے وفد چند ہفتوں میں پاکستان آئے گا۔
منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیرِ اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف مشن ٹیکس اصلاحات، وصولی اور بجلی کے شعبے میں بہتری کے بارے حکومتی اقدامات کا جائزہ لے گا۔
ان کے بقول آئی ایم ایف مشن کے دورۂ اسلام آباد کے بعد یہ پروگرام مکمل طور پر اپنی درست سمت میں گامزن ہو جائے گا۔
اپوزیشن جماعتوں کا کرونا کے باوجود جلسے کرنے پر اصرار، حکومت کی تنقید
پاکستان کی حکومت نے کرونا وبا کی دوسری لہر کے باعث ملک بھر میں 300 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اسے حکومت کی جانب سے اُن کے جلسے ختم کرانے کی کوشش قرار دے رہی ہیں۔
پیر کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر اپنے جلسے ختم کر رہے ہیں اور دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی اپیل کریں گے۔
لیکن منگل کو ایک اجلاس میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومتی اعلان مسترد کرتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں میں شیڈول کے مطابق اپنے جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ کرونا کی آڑ میں جلسوں پر پابندی لگانے کو مسترد کرتے ہیں۔ پی ڈی ایم کے جلسے شیڈول کے مطابق کیے جائیں گے۔
پی ڈی ایم کے پلیت فارم سے آئندہ جلسہ 22 نومبر کو پشاور میں ہو گا جب کہ آئندہ ماہ لاہور میں بھی جلسہ شیڈول کیا گیا ہے۔
پاکستان میں زیرِ علاج افراد کی تعداد 30 ہزار سے متجاوز
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے زیرِ علاج افراد کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 2208 افراد متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 63 ہزار 380 ہو گئی ہے۔ جب کہ وبا سے اب تک 7230 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا سے متاثرہ 3 لاکھ 25 ہزار 788 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 30 ہزار 362 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔
زیرِ علاج افراد میں سے 1551 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔