امریکہ میں اموات کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی
امریکہ میں کرونا وائرس سے اموات کی کل تعداد دو لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں سب سے زیادہ اموات نیویارک میں رپورٹ ہوئی ہیں جن کی تعداد 34 ہزار 187 ہے۔
اسی طرح ریاست ٹیکساس میں 20 ہزار 338 اور کیلی فورنیا میں 18 ہزار 453 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔
امریکہ میں اب تک ایک کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں جس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
کرونا سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر ہے جہاں اموات اور کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
کرونا واِئرس پر شکوک و شہبات سے سائنس دان پرپشان
سائنس دان کرونا وائرس کے دہرے چیلنج سے نبرد آزما ہیں۔ ایک طرف تو وہ انتھک کوششوں میں مصروف ہیں کہ کیسے اس موذی مرض پر قابو پائیں تو دوسری طرف اُنہیں سائنس اور سائنس دانوں کے کام کرنے کے محرکات کے متعلق لوگوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔
اس صورت حال میں سائنس دانوں کی سوچ اور کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں سائنس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے وائس آف امریکہ نے سائنس دانوں سے خیالات معلوم کیے۔
ڈاکٹر بارون ماتھیا جو کہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں وبائی امراض سے متعلق تعلیم کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، اس بات کو بہت شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سائنس دانوں کے لیے یہ ایک حوصلہ شکن بات ہے کہ اُن پر شک کیا جائے۔
نیویارک میں تمام اسکول جمعرات سے بند کرنے کا حکم
امریکہ کے شہر نیویارک میں کرونا کیسز میں اضافے کے بعد تمام اسکول جمعرات سے بند کر دیے گئے ہیں۔
نیویارک کے میئر بل دی بلاسیو نے اپنے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ کرونا وائرس کی احتیاط کے پیشِ نظر تمام اسکول جمعرات سے بند کر دیے جائیں گے۔
نیویارک میں کرونا کے مثبت کیسز کی یومیہ شرح دو فی صد ہونے پر ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے اوائل میں ہی اسکول کھولے گئے تھے تاہم مثبت کیسز کی شرح بڑھنے کے بعد دوبارہ اسکول بند کیے گئے ہیں۔
نیویارک شہر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مثبت ٹیسٹ کی یومیہ شرح تین فی صد سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ کے کسی بھی شہر کے مقابلے میں کرونا سے سب سے زیادہ اموات نیویارک میں رپورٹ ہوئی ہیں۔
عالمی وبا سے امریکہ میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
کرونا وبا کے خاتمے کے لیے صرف ویکسین پر انحصار درست نہیں: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کرونا وبا کے خاتمے کے لیے صرف ویکسین پر انحصار کرنا درست نہیں ہو گا۔ کیوں یہ ویکسین کرونا کے پھیلاؤ کی موجودہ لہر نہیں روک سکتی۔
عالمی ادارۂ صحت کے ایمرجنسی پروگرام کے ڈائریکٹر مائیک ریان نے بدھ کو ورچوئل سیشن کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ویکسین کے بغیر کرونا کی حالیہ لہر کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ لیکن اُن کے بقول ویکسین بھی بیماری کے مکمل خاتمے کا حل نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ "کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ویکسین کے آنے کے بعد سارا مسئلہ حل ہو جائے گا یا یہی نجات دہندہ ہے جس کے پیچھے سارے بھاگ رہے ہیں۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔"
مائیک ریان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈز بھرنے سے روکنے کا واحد حل سماجی فاصلہ اختیار کرنا ہے تاکہ بیماری کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔