کرونا واِئرس پر شکوک و شہبات سے سائنس دان پرپشان
سائنس دان کرونا وائرس کے دہرے چیلنج سے نبرد آزما ہیں۔ ایک طرف تو وہ انتھک کوششوں میں مصروف ہیں کہ کیسے اس موذی مرض پر قابو پائیں تو دوسری طرف اُنہیں سائنس اور سائنس دانوں کے کام کرنے کے محرکات کے متعلق لوگوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔
اس صورت حال میں سائنس دانوں کی سوچ اور کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں سائنس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے وائس آف امریکہ نے سائنس دانوں سے خیالات معلوم کیے۔
ڈاکٹر بارون ماتھیا جو کہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں وبائی امراض سے متعلق تعلیم کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، اس بات کو بہت شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سائنس دانوں کے لیے یہ ایک حوصلہ شکن بات ہے کہ اُن پر شک کیا جائے۔
نیویارک میں تمام اسکول جمعرات سے بند کرنے کا حکم
امریکہ کے شہر نیویارک میں کرونا کیسز میں اضافے کے بعد تمام اسکول جمعرات سے بند کر دیے گئے ہیں۔
نیویارک کے میئر بل دی بلاسیو نے اپنے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ کرونا وائرس کی احتیاط کے پیشِ نظر تمام اسکول جمعرات سے بند کر دیے جائیں گے۔
نیویارک میں کرونا کے مثبت کیسز کی یومیہ شرح دو فی صد ہونے پر ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے اوائل میں ہی اسکول کھولے گئے تھے تاہم مثبت کیسز کی شرح بڑھنے کے بعد دوبارہ اسکول بند کیے گئے ہیں۔
نیویارک شہر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مثبت ٹیسٹ کی یومیہ شرح تین فی صد سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ کے کسی بھی شہر کے مقابلے میں کرونا سے سب سے زیادہ اموات نیویارک میں رپورٹ ہوئی ہیں۔
عالمی وبا سے امریکہ میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
کرونا وبا کے خاتمے کے لیے صرف ویکسین پر انحصار درست نہیں: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کرونا وبا کے خاتمے کے لیے صرف ویکسین پر انحصار کرنا درست نہیں ہو گا۔ کیوں یہ ویکسین کرونا کے پھیلاؤ کی موجودہ لہر نہیں روک سکتی۔
عالمی ادارۂ صحت کے ایمرجنسی پروگرام کے ڈائریکٹر مائیک ریان نے بدھ کو ورچوئل سیشن کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ویکسین کے بغیر کرونا کی حالیہ لہر کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ لیکن اُن کے بقول ویکسین بھی بیماری کے مکمل خاتمے کا حل نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ "کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ویکسین کے آنے کے بعد سارا مسئلہ حل ہو جائے گا یا یہی نجات دہندہ ہے جس کے پیچھے سارے بھاگ رہے ہیں۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔"
مائیک ریان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈز بھرنے سے روکنے کا واحد حل سماجی فاصلہ اختیار کرنا ہے تاکہ بیماری کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
پاکستان میں 2500 سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ مزید 18 مریض دم توڑ گئے جب کہ 2547 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں بدھ کو 36 ہزار 899 ٹیسٹ کیے گئے، اس طرح ملک میں مثبت کیسز کی شرح چھ اعشاریہ نو فی صد رہی۔
پاکستان میں عالمی وبا سے اب تک 7248 افراد ہلاک اور تین لاکھ 65 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ حکام کے مطابق تین لاکھ 26 ہزار سے زیادہ متاثرہ افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق کرونا سے متاثرہ 1535 مریضوں کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے۔