رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:31 23.11.2020

دنیا کے کئی ممالک نے کرونا ویکسین تقسیم کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں

فائل فوٹو
فائل فوٹو

دنیا کے مختلف ملکوں نے اتوار سے کرونا وائرس ویکسین کی تقسیم کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ جرمنی اور امریکہ اگلے مہینے سے آبادی کے چند حصوں کو ویکسین دینے کا آغاز کر دیں گے۔

جرمنی کے وزیرِ صحت جینز سپاہن نے اتوار کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کے لیے پرامید رہنا چاہیے کہ اس سال کے اختتام سے پہلے یورپ میں ویکسین کی منظوری دے دی جائے گی اور اس کی تقسیم فوری طور پر شروع ہو جائے گی۔

امریکہ میں ابتدائی منصوبے کے مطابق 12 دسمبر سے چند گروپس کو ویکسین کی خوراک دینے کا آغاز کر دیا جائے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) 10 دسمبر کو فائزر کی ویکسین کا جائزہ لے کر اس کی منظوری دے گی۔

خیال رہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمنی کمپنی 'بائیو این ٹیک' کے اشتراک سے تیار کی جانے والی کرونا ویکسین 90 فی صد مؤثر ثابت ہوئی تھی۔

مزید پڑھیے

17:13 23.11.2020

کرونا وائرس: مئی تک امریکہ میں زندگی معمول پر آنے کی اُمید

امریکہ میں کرونا وائرس ویکسین کی تیاری اور اس کی تیزی کے ساتھ ترسیل کے حکومتی منصوبے 'آپریشن وارپ اسپیڈ' کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مئی تک 'ہرڈ امیونٹی' یعنی بیشتر امریکیوں میں وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو سکتی ہے۔

اتوار کو ایک انٹرویو کے دوران 'آپریشن وارپ اسپیڈ' کے سربراہ مونسیف سلاؤ نے کہا کہ ویکسین کی منظوری ملتے ہی 24 گھنٹوں کے دوران اسے ملک بھر میں مقررہ مقامات تک پہنچا دیا جائے گا۔

ویکسین کی ترسیل کے بعد 'ہرڈ امیونٹی' سے متعلق پوچھے گئے سوال پر سلاؤ کا کہنا تھا کہ وہ ہر ماہ دو کروڑ افراد کو ویکسین کی خواراک دینے کے قابل ہوں گے۔

اُن کے بقول، " کرونا کی ویکسین اگر 95 فی صد تک مؤثر ہے تو امریکہ کی 70 فی صد آبادی میں اس بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو چکی ہو گی اور ایسا اندازاً مئی 2021 تک ممکن ہو سکے گا۔"

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکام سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ویکسین سب سے پہلے کہاں ذخیرہ کی جائے گی اور کن افراد کو ترجیحی بنیادوں پر یہ دی جائے گی۔

مزید پڑھیے

18:07 23.11.2020

برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرازینیکا کا بھی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ

برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرازینیکا نے کہا ہے کہ اس کی تیار کردہ کرونا وائرس ویکسین کی برطانیہ اور برازیل میں جانچ سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ ویکسین وبا کو روکنے کے لیے انتہائی مؤثر ہے اور ویکسین لینے والے مریضوں کو اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس جانچ کے دوران رضاکار مریضوں کو ویکسین کی دو خوراکیں دی گئیں۔ پہلی خوراک سے کرونا وائرس کا 90 فی صد خاتمہ ہوا جب کہ دوسری خورک اوسطاً 70 فی صد تک کامیاب رہی۔

آسٹرازینیکا کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مزید اعدادوشمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ان کا تجزیہ جاری رہے گا جس سے اس ویکسین کے مؤثر ہونے کی صلاحیت کا زیادہ درستگی کے ساتھ اندازہ ہو سکے گا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں ویکسین کی جانچ کے شعبے کے چیف انویسٹی گیٹر پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے بیان میں کہا ہے کہ نتائج سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاس اب ایک ایسی مؤثر ویکسین موجود ہے جس سے زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

آسٹرازینیکا کا کہنا ہے کہ وہ اس ویکسین کو کم آمدنی والے ممالک کو ہنگامی بنیادں پر فراہم کرنے کے لیے عالمی ادارۂ صحت سے اجازت حاصل کرے گی۔

19:22 23.11.2020

جی 20 ممالک کا کرونا ویکسین سب تک پہنچانے کا عزم

دنیا کی 20 بڑی معیشتوں پر مشتمل جی 20 ممالک نے اپنے ورچوئل اجلاس میں کرونا ویکسین کو تمام افراد تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اجلاس میں کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

جی 20 ممالک کا ورچوئل اجلاس ہفتے کو شروع ہوا تھا جس میں عالمی رہنماؤں نے کرونا وبا کے باعث دنیا کی معیشت کو درپیش چیلنجز پر اظہارِ خیال کیا۔

اجلاس سے اپنے خطاب میں میزبان سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وبا سے نمٹنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں اور جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وبا پر قابو پانے کا واحد حل مشترکہ کوششوں میں پوشیدہ ہے۔

وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کے ایک بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اجلاس کے آخری روز اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ نے اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل کا استعمال کیا ہے۔

بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان پالیسیوں کی اہمیت پر زور دیا جو عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرتی ہیں۔

جی 20 ملکوں کے اجلاس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کرونا کی عالمی وبا کے نتیجے میں امیر اور غریب میں مزید تقسیم پیدا ہو گی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے یورپ نے ایک عالمی پراجیکٹ کے لیے 4.5 ارب ڈالر کی امداد پر زور دیا جس کے تحت ویکسین، ٹیسٹ ا ور علاج معالجے میں پیش رفت اور ان کی تقسیم میں تیزی لائی جا سکے گی۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق روس، جرمنی اور چین نے ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG